کسی کا بچہ بیس سال پہلے گھر سے نکلا اور پھر کبھی واپس نہ آیا، کسی ماں کو انسانی سمگلر سرحد پار لے گئے اور اس کے بچے جوان ہوگئے مگر ماں کا کوئی پتا نہ چلا، اور کوئی شخص دہائیاں گزرنے کے بعد بھی صرف چند دھندلی یادوں کے سہارے اپنے خاندان کو تلاش کرتا رہا۔ ایسے لوگوں کے لیے کراچی کے ولی اللہ معروف نے سوشل میڈیا کو صرف ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کرنے کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا وسیلہ بنا دیا۔ حالیہ 2026 کے انٹرویوز میں ان کے مشن کے ذریعے 600 سے زائد بچھڑے خاندانوں کو 12 ممالک میں ملانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ولی اللہ معروف کراچی کے علاقے منگھوپیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے فارغ التحصیل، ایک مقامی مسجد کے خطیب ہیں اور تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ ان کا یہ غیرمعمولی سفر کسی بڑی تنظیم، سرکاری منصوبے یا بھاری فنڈنگ سے شروع نہیں ہوا بلکہ اپنی والدہ کی ایک نصیحت سے شروع ہوا۔
2018 میں ان کی زندگی کا پہلا بڑا کیس ان کی پڑوسن زاہدہ کا تھا۔ زاہدہ کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا اور وہ انسانی سمگلنگ کا شکار ہو کر پاکستان پہنچی تھیں۔ تقریباً 37 سال سے اپنے خاندان سے جدا تھیں۔ ولی اللہ کی والدہ نے انہیں زاہدہ کی کہانی سنائی اور بیٹے سے کہا کہ اس خاتون کے اپنوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرے۔
ولی اللہ نے زاہدہ کو اپنے گھر بلایا، ان سے بنگلہ دیش کے پرانے پتے، رشتہ داروں کے نام اور جو کچھ انہیں یاد تھا وہ معلومات حاصل کیں اور انہیں اپنی فیس بک پر شیئر کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر تقریباً ایک ہفتے بعد زاہدہ کی والدہ، بہن بھائی اور بیٹے سمیت خاندان کا سراغ مل گیا۔ جس بیٹے کو وہ شیر خوار حالت میں چھوڑ کر بچھڑی تھیں وہ اب بڑا ہو چکا تھا۔ پہلے خاندان کو ویڈیو کال پر ملایا گیا اور بعد میں زاہدہ اپنے وطن اور اپنوں تک پہنچ گئیں۔ 37 سال بعد ہونے والی اس ملاقات نے ولی اللہ معروف کی زندگی کا راستہ ہی بدل دیا۔
اس ایک کیس کے بعد پاکستان میں موجود ایسی دوسری خواتین نے بھی ان سے رابطہ شروع کر دیا جو برسوں پہلے انڈیا یا بنگلہ دیش سے انسانی سمگلنگ، غربت یا دوسرے حالات کے باعث پاکستان پہنچیں اور اپنے خاندانوں سے رابطہ کھو بیٹھی تھیں۔ 2024 تک اردو نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ولی اللہ تقریباً 180 خواتین کو انڈیا اور بنگلہ دیش میں ان کے پیاروں سے ملا چکے تھے، جبکہ بعد کے برسوں میں ان کا کام بچوں، مردوں اور دوسرے ممالک تک بھی وسیع ہوتا گیا۔
ان کا طریقہ صرف ایک تصویر فیس بک پر لگا دینے تک محدود نہیں۔ وہ گمشدہ شخص کے پاس بیٹھ کر اس کی پرانے گھر، گاؤں، سکول، رشتہ داروں، جسمانی نشانات، بچپن کے واقعات اور علاقے کی چھوٹی چھوٹی یادوں تک کو جمع کرتے ہیں۔ پھر معلومات سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ہیں اور مختلف علاقوں یا ممالک میں موجود رابطوں کے ذریعے چھان بین کی جاتی ہے۔ ممکنہ خاندان ملنے کے بعد دونوں طرف کی معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے، ویڈیو کال کروائی جاتی ہے اور شناخت تسلی بخش ہونے کے بعد خاندانوں کو براہ راست رابطے میں لایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے ساتھ ایک مقامی ٹیم بھی کام کرتی رہی ہے۔
اس طریقے کی ایک خوبصورت مثال محمد اسامہ میاں خان کی ہے۔ اسامہ 2005 میں گجرات میں بچپن کے دوران گھر سے کوئی چیز لینے نکلے اور راستہ بھٹک گئے۔ مختلف مقامات اور ایدھی مراکز سے ہوتے ہوئے آخرکار کراچی پہنچے اور برسوں ایک فیکٹری میں کام کرتے رہے۔ تقریباً 22 سال بعد انہوں نے ولی اللہ معروف سے اپنے خاندان کی تلاش کے لیے رابطہ کیا۔
اسامہ کو اپنے گھر کا مکمل پتہ یاد نہیں تھا، لیکن کچھ نشانیاں باقی تھیں: ہاتھ اور ٹھوڑی پر پرانے زخم، سر کا نشان، کان کی مخصوص بناوٹ، گھر میں پالے گئے خرگوش اور صحن میں موجود شہتوت کے درخت کی یاد۔ پہلی سوشل میڈیا پوسٹ سے نتیجہ نہ نکلا، مگر ولی اللہ نے دوبارہ کوشش کی۔ دوسری پوسٹ بالآخر اسامہ کے خاندان تک پہنچ گئی۔ شناخت اور رابطوں کے مراحل کے بعد جولائی 2026 میں وہ اپنی والدہ، نانی، خالہ، بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں سے دوبارہ مل گئے۔ ان کے والد اپنے بیٹے کی واپسی دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے؛ ان کا کئی سال پہلے انتقال ہو چکا تھا اور خاندان کے مطابق آخری وقت تک انہیں اپنے گمشدہ بیٹے کی یاد تھی۔
ولی اللہ معروف کے سب سے معروف کیسز میں ممبئی کی حمیدہ بانو بھی شامل ہیں۔ انہیں 2002 میں دبئی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر گھر سے نکالا گیا لیکن وہ انسانی سمگلنگ کے ذریعے پاکستان پہنچ گئیں۔ برسوں تک ان کے بچوں کو معلوم نہ تھا کہ ان کی ماں کہاں ہے۔ کراچی میں ولی اللہ انہیں جانتے تھے اور بالآخر ان کی ویڈیو اور معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے انڈیا تک پہنچیں۔ حمیدہ کی بیٹی نے اپنی ماں کو پہچان لیا، حکام بھی شامل ہوئے اور 22 سال بعد دسمبر 2024 میں حمیدہ بانو انڈیا واپس اپنے خاندان تک پہنچ گئیں۔
شاید ولی اللہ معروف کے کام کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ صرف گمشدہ انسان تلاش نہیں کرتے؛ وہ کئی مرتبہ کسی ماں کے بیس، تیس یا چالیس سال سے رکے ہوئے انتظار کو ختم کرتے ہیں۔ بعض ملاقاتوں میں ایک طرف بوڑھی ماں ہوتی ہے اور دوسری طرف وہ بچہ جو بچھڑتے وقت شیر خوار تھا مگر اب خود بچوں کا باپ بن چکا ہوتا ہے۔ وقت واپس نہیں آتا، بیتے ہوئے سال کوئی نہیں لوٹا سکتا، مگر ولی اللہ معروف کم از کم اتنا ضرور کرتے ہیں کہ باقی بچی زندگی اپنوں کے بغیر نہ گزرے۔
اور شاید اسی لیے ولی اللہ معروف کی اصل پہچان کسی عہدے سے نہیں بلکہ ان مناظر سے بنتی ہے جہاں دہائیوں سے بچھڑے دو انسان ایک دوسرے کو سکرین پر دیکھتے ہیں، چند لمحے بول نہیں پاتے، صرف روتے رہتے ہیں—اور پھر انہیں یقین آتا ہے کہ جسے وہ شاید ہمیشہ کے لیے کھو چکے تھے، وہ آج بھی زندہ ہے۔