سرفراز بگٹی کی تبدیلی، تین نام فائنل مرحلے میں، ڈاکڑ مالک فیورٹ 7
تحریر: مرتضیٰ زیب زہری
اسلام آباد کی سیاسی راہداریوں میں گزشتہ چند روز سے بلوچستان ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔
اس بار گفتگو کسی ترقیاتی منصوبے، بجٹ یا نئی پالیسی کے بارے میں نہیں بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی کرسی اور ممکنہ سیاسی تبدیلی کے گرد گھوم رہی ہے۔
صوبائی سیاست پر نظر رکھنے والے حلقوں میں یہ سوال تیزی سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بلوچستان ایک اور سیاسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے، یا پھر یہ بھی ماضی کی طرح گردش کرتی سیاسی افواہوں کا حصہ ہے؟
اس بحث کو تقویت اس وقت ملی جب نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اسلام آباد میں مسلسل اہم سیاسی ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جبکہ مختلف ٹی وی پروگراموں اور پوڈکاسٹس میں بھی شرکت کی۔
یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت میں ہوئیں جب بلوچستان میں امن و امان، گورننس اور سیاسی استحکام پر سوالات پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔
اسلام آباد میں موجود مسلم لیگ (ن) کے ایک ذمہ دار ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں ممکنہ سیاسی تبدیلی کے حوالے سے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس ذریعے کے مطابق ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے نام زیرِ غور ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت سے وابستہ بعض وزراء ان اطلاعات کو محض افواہیں قرار دیتے ہیں۔ ایک صوبائی وزیر نے مصنف سے گفتگو میں کہا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہ کہہ چکے ہیں کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اپنی آئینی مدت پوری کریں گے تو پھر قیاس آرائیوں کی زیادہ اہمیت نہیں رہتی۔
یہ بھی ایک سیاسی مؤقف ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر بھی تبدیلی کی خبروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
بلوچستان کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والے مبصرین کہتے ہیں کہ اگر اسلام آباد میں واقعی کوئی مشاورت جاری ہے تو اس کا مقصد صرف وزیراعلیٰ تبدیل کرنا نہیں ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ طرزِ حکمرانی، امن و امان کی حکمت عملی اور وفاق و بلوچستان کے تعلقات میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی؟
اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حالیہ سرگرمیوں کو دیکھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد روانگی سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ سیاست، مذاکرات اور عوامی نمائندگی سے حل ہوگا۔ یہ مؤقف وہ گزشتہ ایک دہائی سے دہراتے آ رہے ہیں۔
جب وہ 2013 میں وزیراعلیٰ بنے تو ان سے بھی یہی توقع وابستہ کی گئی تھی کہ وہ ناراض بلوچ حلقوں سے سیاسی رابطوں کا آغاز کریں گے۔ ان کے دور میں کچھ کوششیں ضرور ہوئیں، لیکن خود ڈاکٹر مالک مختلف مواقع پر یہ شکایت کرتے رہے کہ وزیراعلیٰ کے پاس اختیارات محدود ہوتے ہیں جبکہ ذمہ داریاں مکمل۔
اسی لیے آج اگر ان کا نام دوبارہ زیرِ بحث ہے تو سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اس بار صرف عہدہ پیش کیا جائے گا یا اختیارات بھی؟
مارچ 2024 میں سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا تو ان کی حکومت کا بنیادی نعرہ امن کا قیام تھا۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست اپنی رٹ بحال کر رہی ہے۔
لیکن زمینی صورتحال نے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد بڑے واقعات پیش آئے۔ گوادر پورٹ کمپلیکس پر حملہ، تربت نیول بیس پر حملہ، نوشکی کے قریب مسافروں کا قتل، موسیٰ خیل حملے، دکی میں کان کنوں کا قتل، کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکہ، بارکھان میں مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کرنا، جعفر ایکسپریس پر حملہ، چمن کے قریب ٹرین حملہ اور حالیہ دنوں میں ہنہ اوڑک، زیارت، خضدار، دالبندین اور مستونگ کے واقعات نے مجموعی طور پر یہ تاثر پیدا کیا کہ امن و امان کی صورتحال حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
ہر واقعے کے بعد حکومتی بیانات آئے، تحقیقات کے اعلانات ہوئے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا اعادہ کیا گیا، لیکن سیاسی مخالفین کا مؤقف ہے کہ عوام اب نتائج چاہتے ہیں، صرف بیانات نہیں۔
بلوچستان میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد اپوزیشن اور بعض سیاسی رہنماؤں نے اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد پر وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
محمود خان اچکزئی نے زیارت کے ایک واقعے کے بعد کہا تھا کہ “کسی شریف آدمی کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔” دوسری جانب وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ “اگر میں چلا جاؤں تو کیا امن آ جائے گا؟”
یہ دونوں بیانیے آج بھی بلوچستان کی سیاسی بحث کا مرکز ہیں۔
حکومت کے حامی کہتے ہیں کہ دہشت گردی صرف صوبائی حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کا چیلنج ہے۔ ناقدین کا جواب ہے کہ اگر حکومت امن و امان کی ذمہ دار ہے تو پھر سیاسی جواب دہی بھی اسی کا حصہ ہونی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں تبدیلی کے کسی بھی فیصلے کا تعلق صرف صوبائی اسمبلی کے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ وفاقی اتحادی سیاست، سیکیورٹی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی سے بھی ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی ملاقاتوں کو محض رسمی ملاقاتیں قرار دینا بھی آسان نہیں، جبکہ انہیں وزارتِ اعلیٰ کی حتمی دوڑ میں شامل قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں دونوں امکانات موجود ہیں۔
اگر فیصلہ ساز حلقے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ بلوچستان میں سیاسی مفاہمت کو ترجیح دی جائے تو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نام زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔
اگر ترجیح انتظامی تسلسل یا اتحادی توازن ہو تو دیگر نام بھی زیرِ غور رہ سکتے ہیں۔ تاہم یہ تمام باتیں سیاسی ذرائع اور مبصرین کے تجزیوں پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
فی الحال کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بدستور اپنے منصب پر موجود ہیں اور حکومت تبدیلی کی خبروں کو مسترد کر رہی ہے۔
تاہم ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان میں امن و امان، سیاسی اعتماد اور گورننس کے مسائل نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں، مختلف سیاسی شخصیات کی سرگرمیاں اور بڑھتی ہوئی قیاس آرائیاں اسی بحث کا حصہ ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ تمام سرگرمیاں صرف معمول کی سیاسی مشاورت تھیں یا بلوچستان کی سیاست واقعی ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔
فی الحال دستیاب شواہد یہی بتاتے ہیں کہ صوبے میں سیاسی بے یقینی برقرار ہے، جبکہ حتمی فیصلے کے بارے میں کوئی بھی دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔