: بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ دہشت

0

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ دہشت گرد سزا سنائے جانے کے بعد ججوں کو دھمکیاں دیتے ہیں، جس کے باعث صوبے میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔

 

اے آر وائی نیوز کے پروگرام “باخبر سویرا” میں گفتگو کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، شہریوں اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں اور اپنے “غیر ملکی آقاؤں” کی ہدایات پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا، “دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی قومیت۔ وہ بے گناہ شہریوں کو قتل کرتے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں، عام شہریوں اور ریاستی اداروں کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں۔”

 

وزیر داخلہ نے حالیہ دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے پہلے مسافر بس کو نشانہ بنایا، جس میں خواتین جاں بحق ہوئیں، اور اب وہ عدلیہ کے ارکان کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ ججوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دہشت گردوں کی جانب سے سنگین خطرات لاحق ہیں، جس کے پیش نظر صوبائی حکومت ان کی سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی اقدامات کر رہی ہے۔

 

میر ضیا اللہ لانگو نے اعتراف کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزا کی شرح بہت کم ہے، کیونکہ فیصلے سنانے والے ججوں کو بعد ازاں شدید دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

Related Posts
Related Posts

انہوں نے کہا کہ ججوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف قانونی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی کی جا رہی ہے۔

 

وزیر داخلہ کے مطابق، مستونگ میں عدلیہ پر حملے کے بعد متعدد اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کیے گئے ہیں، جن میں ججوں کی سیکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس طلب کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ یہ بیان مستونگ کے ولی خان بائی پاس کے قریب عدلیہ کے ارکان کو لے جانے والی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی گارڈ شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے۔

 

تھانہ مستونگ کے ایس ایچ او کے مطابق جج صاحبان کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان پر حملہ کیا گیا۔

 

بلوچستان حکومت نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دیا ہے۔

 

صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ عدلیہ پر حملہ دہشت گردی کی ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی تھی۔

 

انہوں نے کہا، “دہشت گردوں نے جان بوجھ کر عدلیہ کو نشانہ بنایا۔ دو ججوں پر حملہ کیا گیا، جن میں سے ایک نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ججوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔”

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.