*تفتان: تفتان بارڈر پر گزشتہ چار ماہ سے تقریباً 400 گاڑیاں پھنس جانے کے باعث گاڑی مالکان اور ڈرائیور شدید پریشانی کا شکار ہیں۔*
متاثرہ مالکان اور ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے گاڑیوں کے بارڈر پر رکے رہنے کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ رہائش، خوراک اور دیگر اخراجات میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی
۔
متاثرین نے وفاقی اور صوبائی حکومت، متعلقہ حکام اور کسٹمز انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے تفتان بارڈر پر پھنسی گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ چار ماہ سے جاری مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور مالکان و ڈرائیور مزید مالی نقصان سے بچ سکیں۔