کوئٹہ:
کوئٹہ مکران کے معروف سیاسی و سماجی رہنماء میر فدا حکیم رند اور سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے درمیان کوئٹہ میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورتحال، علاقائی امور، عوام کو درپیش مشکلات اور بالخصوص ضلع کیچ کے مختلف علاقوں تمپ، مند اور بلیدہ کے بنیادی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مکران بالخصوص ضلع کیچ کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جن میں پینے کے صاف پانی، بجلی، سڑکوں، تعلیم، صحت اور بارڈر سے وابستہ روزگار کے مسائل سرِفہرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو متحد ہوکر مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا مستقل حل ممکن بنایا جاسکے۔
میر فدا حکیم رند نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمپ، مند، بلیدہ اور دیگر سرحدی علاقوں کے عوام سخت معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بارڈر کی بندش اور غیر یقینی صورتحال نے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر سے وابستہ کاروبار اور تجارت مکران کے عوام کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
سابق سینیٹر ڈاکٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ ضلع کیچ کے عوام کے حقوق کے حصول اور بنیادی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر فورم پر علاقے کے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔
ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بارڈر اور علاقائی مسائل کے حل کیلئے آئندہ ماہ اگست میں مختلف سیاسی، سماجی اور قبائلی شخصیات پر مشتمل ایک مشترکہ اتحاد قائم کیا جائے گا تاکہ منظم انداز میں عوامی حقوق کیلئے جدوجہد کی جاسکے۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مکران خصوصاً ضلع کیچ و ضلع تمپ مند کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔