مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے نئی بحث شروع کرا دی، روز روز نیا ایشو بناتے ہیں، صوبہ صوبہ پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے، کوئی کیک تو نہیں جو آرام سے چھری لے کر کاٹ دیں، ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے پہلے بزنس سمٹ سے خطاب میں کہا تھا کہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے، مسائل کے حل کیلئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے بنانے ہوں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث چل نکلی ہے جب کہ کچھ لوگ ان کے اس بیان کو حکومت کی رخصتی سے تعبیر کر رہے ہیں۔