انگریزی جریدے ڈان کے لیے مبارک زیب خان نے اپنی خبر میں بتایاہے کہ مالی سال 2025-26 میں 9 پڑوسی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 30 فیصد اضافے کے ساتھ 15.933 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اس سے گزشتہ سال میں یہ خسارہ 12.256 ارب ڈالر تھا۔ تجارتی خسارے میں اس اضافے کی بنیادی وجہ علاقائی منڈیوں میں پاکستان کی برآمدات میں کمی ہے، جس میں بالخصوص افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ممالک کو بھیجی جانے والی اشیاء کی مقدار میں شدید گراوٹ شامل ہے۔ 10 اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ برآمدات سمیت تجارت معطل ہے، جس نے ملک کی مجموعی برآمدی کارکردگی کو مزید متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب وارداتوں کی بات کی جائے تو اس زیرِ جائزہ مدت کے دوران چین سے کی جانے والی درآمات میں بڑا اضافہ دیکھا گیا، جس نے اس تجارتی عدم توازن کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ فیصد کے لحاظ سے بھارت کو کی جانے والی برآمدات میں معمولی اضافہ درج ہوا ہے، لیکن ڈالر کی قدر کے اعتبار سے یہ اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس سے قبل مالی سال 2025 میں بھی ان ہی پڑوسی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 29.42 فیصد بڑھ کر 12.297 ارب ڈالر تک جا پہنچا تھا جو اس سے پچھلے سال 9.502 ارب ڈالر تھا۔ مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی نو پڑوسی ممالک—افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ—کو کی جانے والی برآمدات کی مجموعی مالیت 11 فیصد کمی کے بعد 3.953 ارب ڈالر رہ گئی ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 4.443 ارب ڈالر تھی۔ اس کے برعکس، اس خطے سے کی جانے والی درآمات 19.1 فیصد اضافے سے 19.886 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 16.699 ارب ڈالر تھیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ درآمات کی مقدار برآمدات سے کئی گنا زیادہ رہی۔ پاکستان کی اپنے پڑوسیوں کو ہونے والی برآمدات میں چین سب سے آگے ہے، جس نے بھارت اور بنگلہ دیش جیسے گنجان آباد ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جبکہ پاکستان نے نیپال، سری لنکا، بھوٹان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے ساتھ سرحد پار تجارت صرف سمندری راستے کے ذریعے کی۔
زیب خان نے اپنی خبر میں بتایاہے کہ مالی سال 2025-26 میں 9 پڑوسی ممالک کے ساتھ
Next Post
You might also like