ہنہ اوڑک میں حملہ: شہری اپنی مدد آپ کے تحت مزاحمت پر مجبور، پانچ زخمی ہسپتال منتقل، سینیٹر منظور کاکڑ نے

0

ہنہ اوڑک میں حملہ: شہری اپنی مدد آپ کے تحت مزاحمت پر مجبور، پانچ زخمی ہسپتال منتقل، سینیٹر منظور کاکڑ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

 

مانیٹرینگ ڈیسک

 

 

کوئٹہ: کوئٹہ کے کے علاقے ہنہ اوڑک میں اتوار کی شام سے جاری مسلح حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ مسلح افراد نے علاقے میں حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں کی حالت کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے کے شہری اپنی مدد آپ کے تحت دفاع پر مجبور ہیں اور مقامی لوگ مسلح افراد کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر موجودگی نہ ہونے کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

 

مقامی افراد کے مطابق یہ جھڑپیں اتوار کی شام سے مسلسل جاری ہیں اور کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ حملے کے فوراً بعد متعلقہ حکام کو اطلاع دی گئی، تاہم بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو خود ہی اپنے علاقوں کی حفاظت کرنا پڑ رہی ہے۔

 

Related Posts
Related Posts

ان کے مطابق خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے اور خواتین، بچے اور بزرگ شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

 

دوسری جانب سینیٹر منظور کاکڑ نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔

 

انہوں نے اپنے بیان میں کہا: “ہنہ اوڑک میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا حملہ، پانچ افراد زخمی، حکومت غائب، عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔”

 

سینیٹر منظور کاکڑ نے مزید کہا کہ اگر شہریوں کو اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود ہی ہتھیار اٹھانا پڑیں تو یہ ریاستی رٹ اور امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ علاقے میں فوری طور پر سکیورٹی فورسز تعینات کریں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں اور حملے میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

 

واضح رہے کہ واقعے سے متعلق سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ حملے کی نوعیت، حملہ آوروں کی تعداد اور نقصانات کی مکمل تفصیلات بھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

 

 

اس لیے بعض معلومات مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.