سرکار

Screenshot
0

‏سرکار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مستونگ میں قبائل کے پھلدار باغوں کی تباہی محض درختوں کا نقصان نہیں بلکہ یہ لوگوں کے احساسِ محرومی اور بے اعتمادی میں اضافہ ہے۔ طاقت کے ایسے اقدامات قبائلی معاشرے کی سوچ کو مزید سخت اور مزاحم بنا دیتے ہیں۔ نواب اسلم خان رئسانی

 

‏حکمران بلوچوں کو فتنۂ ہندوستان قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے مگر حقیقت یہ ہے کہ جن کلمہ گو مسلمانوں سے بلوچوں نے خیر کی توقع کھو دی ہو کسی غیر مذہب سے اچھائی کی امید رکھنا تو مزید دور کی بات ہے۔

 

‏آج ریاست کا اپنا جبر، طاقت کا بے دریغ استعمال اور ریاستی دہشت گردی اس بیانیے کی حقیقت عیاں کر رہی ہے کہ فتنہ اور فساد کسی قوم کی مزاحمت میں نہیں، بلکہ فتنہ اُس ریاستی جبر، ظلم اور دہشت گردی میں جنم لیتا ہے جو ریاست خود اپنے شہریوں پر مسلط کرتی ہے!

 

Related Posts

‏درخت کاٹے جا سکتے ہیں اور باغ اجاڑے جا سکتے ہیں، مگر دلوں میں پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور نفرت کو طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

 

‏اگر ریاست واقعی امن چاہتی ہے تو اسے مزاحمت کو فتنہ کہنے کے بجائے اُن اسباب کا خاتمہ کرنا ہوگا جو لوگوں کو مزاحمت پر مجبور کرتے ہیں۔

نواب اسلم خان رئیسانی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.