سینئر صحافی روف کلاسرا نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوست اور میرے چھوٹے بھائی حذیفہ نے کہا کہ فنڈز نہیں تھےکل ہی یہاں پر CDA نے 152 ارب روپے بجٹ پاس کیا ہے اور پچھلے سال یہ 90 ارب تھا، 90 سے 60 ارب انہوں نے بڑھا کے 152ارب کر دیا ہے جو محسن نقوی صاحب نے ہر گلی، محلے، نُکڑ، سڑک پر انڈر پاس، فلائی اوور اور سڑکیں شڑکیں بنا دینی ہیں کہ اب آپ کو گھر سے نکلنے کی ضرورت ہی نہیں ،آپ کے گھر کے اوپر سے فلائی اوور گزرے گا۔ آپ نے ایک سیڑھی رکھنی ہے، اسی کے اوپر گاڑی چڑھا دیں اور چڑھ جائیں فلائی ، اب وہ یہ پلان کر رہے ہیں۔کہیں پر کوئی خالی جگہ انہیں نظر آتی ہے وہ بلڈوزر لے کر پہنچ جاتے ہیں، 152 ارب روپیہ کہاں سے آیا؟
پچھلے سال جب راندھاوا صاحب چیئرمین تھے تو CDA نے جولائی میں پہلے پلاٹ بیچ کر 17 ارب روپے اور پھر چار مہینے کے بعد پیسے کم پڑ گئے تو دسمبر میں 24 ارب روپے کے مزید پلاٹ بیچے ۔ 6 مہینوں میں آپ نے یہاں 40سے 45 ارب روپے کے پلاٹ بیچ لیے! ایک ہسپتال کتنے کا بنتا ہوگا؟ 10 سے 15 ارب روپے میں چیزیں بہتر ہو سکتی ہیں۔
20 سے 22 ارب روپے لاگت سے ابھی یہ نیا کنونشن سینٹر بنانے جارہے ہیں جبکہ موجودہ جو کنونشن سینٹر سفید ہاتھی، اس کو چار دفعہ پرائیویٹائزیشن لسٹ میں ڈال چکے ہیں کہ یہ ہمارے کسی کام کا نہیں ہے، اس کو بیچیں۔ یہ بیچنے کی لسٹ میں ہے! تو محسن نقوی صاحب کہتے ہیں نہیں، میں نے اور بنانا ہے، وہ بارہ کہو میں بنا رہے ہیں، اتنی بے دردی سے پیسہ آپ استعمال کرتے جا رہے ہیں، یہ پیسوں کا ضیاع ہے ، آپ نے پورے اسلام آباد کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ نے اس کے حالات یہ کر دیے اور میرا چھوٹا بھائی کہتا ہے پیسے نہیں تھے!