پالیسیوں ،حکومتی عدم توجہی ،ٹیکسوں کی بھرمار

0

ناقص پالیسیوں ،حکومتی عدم توجہی ،ٹیکسوں کی بھرمار اور کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی وجہ سے جننگ سیکٹر شدید بحران کا شکار ہوگیا،

جنگ نیوز کے مطابق صرف 268 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں ایک وقت تھا کہ ملک بھر میں کپاس کی پیداواراوسطاً ایک کروڑ 10 لاکھ بیلز سالانہ ،جننگ فیکٹریوں کی تعداد تقریباً 1200تک پہنچ گئی تھی،فیکٹریوں کی تعداد کم ہونے سے کسانوں کے پاس پیداوار فروخت کے مواقع محدود ،بند فیکٹر یوں میں اکثر کی مشینری سکریپ میں 130 روپے فی کلو فروخت ہوئی ۔

Related Posts

پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کا کہنا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود کپاس کے بہتری کے لئے کام کررہے ،نئی اقسام اور جدید ٹیکنالوجیز کی تیاری اور کاشتکاروں تک ان کی منتقلی کا عمل جاری ہے، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے 15 اگست 2026 کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں صرف 268 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔

کاٹن سیکٹر کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کپاس کی پیداوار اپنے عروج کے زمانے میں اوسطاً ایک کروڑ 10 لاکھ بیلز سالانہ رہی، بعض برسوں میں یہ پیداوار ایک کروڑ 5 لاکھ سے ایک کروڑ 25 لاکھ بیلز تک پہنچتی رہی، جس کے نتیجے میں جننگ صنعت بھی وسعت اختیار کرتی گئی اور فیکٹریوں کی تعداد تقریباً 1200 تک پہنچ گئی۔تاہم کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کے ساتھ جننگ صنعت بھی سکڑتی چلی گئی۔

کاٹن سیکٹر سے وابستہ حلقوں کے مطابق موجودہ عشرے میں سالانہ اوسط پیداوار تقریباً 60 لاکھ بیلز رہ جانے کے باعث جننگ فیکٹریوں کی بڑی تعداد غیر فعال یا بند ہوگئی۔، پی سی جی اے (PCGA )کے اگست 2026 کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 15 اگست تک ملک بھر میں جننگ فیکٹریوں میں 11 لاکھ 13 ہزار 513 بیلز کپاس پہنچی، جبکہ ٹیکسٹائل ملز نے 9 لاکھ 37 ہزار 817 بیلز خرید لیں۔ ایک لاکھ 62 ہزار 696 بیلز اسٹاک میں موجود تھیں، جن میں 68 ہزار 208 پریس شدہ روئی اور 94 ہزار 488 بیلز پھٹی کی صورت میں تھیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.