فیڈرل

0

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر کے 100 کے لگ بھگ مخصوص رجسٹرڈ مینوفیکچررز (میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس) کے لیے بجلی کے استعمال پر 5 روپے فی یونٹ کے حساب سے سیلز ٹیکس عائد کر دیا، جس کے باعث اسٹیل مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف بی آر نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 14 آف 2026 جاری کردیا ہے جس کے تحت آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر کے مخصوص رجسٹرڈ مینوفیکچررز (میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس) پر استعمال ہونے والی بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ آرڈر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 6 کی ذیلی دفعہ (2) کے تیسرے ضابطے اور ایس آر او 1245(I)/2026 مورخہ 31 جولائی 2026 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

 

Related Posts

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ شرح صرف ان رجسٹرڈ مینوفیکچررز پر لاگو ہوگی جن کی گزشتہ بارہ ماہ کے دوران مخصوص ایچ ایس کوڈز کے تحت اسکریپ کی درآمدات یا ای ایف ایس درآمد کنندگان سے براہ راست خریداری، مذکورہ اسکریپ کی مجموعی خریداری کا 70 فیصد سے زائد رہی ہو اور جن کے صنعتی آپریشنز ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہوں۔ایف بی آر نے اس سلسلے میں ملک بھر کے ایسے رجسٹرڈ آئرن اینڈ اسٹیل مینوفیکچررز کی تفصیلی فہرست بھی جاری کر دی ہے جو اس حکم نامے کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

 

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان رجسٹرڈ مینوفیکچررز کو جاری کیے جانے والے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 5 روپے کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کریں۔اہل ٹیکس دہندگان کی یہ فہرست وقتاً فوقتاً ایف بی آر یا متعلقہ چیف کمشنر، کمشنر ان لینڈ ریونیو کی سفارشات کی بنیاد پر نظرثانی کے بعد تبدیل کی جا سکتی ہے بورڈ یا متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کسی بھی رجسٹرڈ مینوفیکچرر کی اہلیت کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے فہرست میں شامل یا خارج کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔اگر کسی صنعت کار کو اس سلسلے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہو تو وہ متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو سے رجوع کر سکتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.