چاہینہ اور رشیا نے ایران کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے جس سے ایران امریکہ کے ہر ہدف پر تاک تاک کر نشانے لگا رہا ہے اور ہر نشانہ پرفیکٹ لگ رہا ہے ، اس سے ٹرمپ باولہ ہو گیا ہے اور یورپ ، برطانیہ اور دیگر اڈوں سے اپنے B1 اور B2 جہازوں مشرق وسطیٰ طلب کر لیا ہے اور ان سب کو نئے احکامات کا انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے
ٹرمپ اب حملے کی بجائے انتقام کی پالیسی کے اوپر اتر آیا ہے ، اس کی بے چینی اس کے الفاظ اور باڈی لینگویج سے ظاہر ہو رہی ہے ، وہ چاہتا ہے ایران میرے آگے گڑگڑایے لیکن ایران ضدی پن کی انتہا پر ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا الٹا لڑائی کو طول دے رہا ہے ، ایران لڑائی کو جتنا طول دے رہا ہے اتنا ہی روس اور چاہینہ کو فائدہ ہو رہا ہے ، اور امریکہ کو اتنا ہی نقصان لیکن اب تک جو ہوا تھا وہ صرف ٹارگٹڈ کاروائی تھی مگر آگے جو ہونے جا رہا ہے اس میں معاملہ ٹارگٹڈ کاروائی تک محدود نہیں رہے گا
ٹرمپ نے جو بلائیں مشرق وسطیٰ بلوائی ہیں یہ عام چیزیں نہیں ہیں انہون نے افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑوں پر ایسی کارپٹ بمبنگ کی تھی کہ وہاں انسان کیا حیوان بھی نہیں بچے تھے یہ تو ان کے پہاڑ سخت جان تھے کھڑے رہے اور طالبان قیادت تہہ در تہہ ان میں چھپ گئی ورنہ ان جہازوں نے ان کو حشر کر دینا تھا
لیکن ایران کے معاملے میں چیزیں مختلف ہیں ایران افغانستان کے جیسا بھوکا ننگا ملک نہیں ہے کہ جہاں بھی بمب گرے گا خیر ہی ہو گی الٹا اس کالوہا اٹھا کر کباڑ میں بیچ دیں گے ایران ایک امیر ملک ہے اس کا ایک انفراسٹرکچر ہے معیشت ہے عوام ہے ، گنجان شہر ہیں اگر ایران کی سول آبادی کو بہانہ بنا کر کوئی کارپٹ بمبنگ جیسی چیز کی گئی تو نتائج بہت بھیانک ہون گے
اب تک ٹرمپ کے بیانات سے یہئ لگ رہا ہے وہ مختلف جگہوں پر قائم سینٹری فیوجز کو نشانہ بنانا چاہتا ہے اگر ان سینیٹری فیوجز کے نام پر عوام کو نشانہ بنا دیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا ؟