*بلوچستان دو دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے اور نہ سرمچار ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ*

0

*بلوچستان دو دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے اور نہ سرمچار ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ*

 

بلوچستان دو دہائیوں سے حالتِ جنگ میں ہے۔ نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے اور نہ ہی سرمچار۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم صوبے کے مسائل کے حل کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمتِ عملی بنائیں؟ ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کیا۔

 

Related Posts

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ماورائے آئین قتل ہو رہے ہیں۔ تربت اور پنجگور میں کوئی بھی ایسا دن نہیں گزرتا جب مختلف الزامات لگا کر لاشیں نہ گرائی جائیں۔

 

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ آج سڑکیں محفوظ نہیں ہیں اور ہم اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے، جبکہ تاجروں کی گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں۔ صوبے کو سیاسی کے بجائے اسٹریٹجک طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ کیا یہ ایوان صوبے کو نہیں سنبھال سکتا؟

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.