اسلام آباد(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکیارڈ حملہ کیس میں سزائے موت پانے والےنیوی کے 5 سابق افسران کی دستاویزات کے حصول کی درخواست نمٹا دی۔ جسٹس بابر ستار نے پٹیشنرز کے وکلا کے بیان کے بعد درخواست نمٹانے کا فیصلہ سنایا۔ درخواست نیوی کے سابق افسران ارسلان نذیر ستی،محمد حماد،محمد طاہر رشید،حماد احمد اور عرفان اللہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق نیوی افسران کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سے سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا حکم امتناع ختم کردیا۔
شام میں 75000 قیدیوں کی 150 اجتماعی قبریں ملنے کی ویڈیو وائرل
نیوی حکام نے بورڈ آف انکوائری کی رپورٹ کو قومی سلامتی کا ایشو بتاتے ہوئے اس کی کاپی مجرمان کو فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے سزائے موت پانے والے مجرمان کو ان سے متعلق ریکارڈ کی حد تک رسائی دینے کا حکم دیا تھا۔ نیوی کے پانچ اہلکاروں کو کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر ہائی کورٹ نے عمل درآمد روک رکھا تھا۔
شام کی نئی حکومت کا اقوام متحدہ سے اسرائیل کو شام کی سرزمین باہر سے نکالنے کا مطالبہ
درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے کہا کہ عدالتی حکم پرسرکاری وکیل کی موجودگی میں انکوائری رپورٹ اور فیصلے تک رسائی دےدی گئی تاہم انکوائری رپورٹ اور ججمنٹ کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ انکوائری رپورٹ اور ججمنٹ دکھائی گئی جس کے نوٹس بنا لیے ہیں۔