عمران خان کو جہاں جانا تھا وہ چلا گیا، مجھے لگتا ہے میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف ایک بار پھر سازش ہونے لگی ہے، میاں نواز شریف ہر دفعہ واپس آ جاتے ہیں اور سازشی وہیں رہ جاتے ہیں
سینیٹر ناصر بٹ
سورس: وی نیوز
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیدیا۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔
عدالت نے عمران خان کو 2 دن کے اندر شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیدیا، بانی پی ٹی آئی آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے، عدالت نے ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے بھی ملاقات کا بھی حکم دیدیا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی کے ہمراہ ہونگے۔
تحریک انصاف سے بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس پر سیاست نہ کرنے اور اسپتال کے باہر مجمع نہ لگنے کی یقین دہانی بھی لے لی گئی۔
دوران سماعت جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی کس بہن کی ملاقات ہونی چاہئے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ عظمیٰ خان چونکہ ڈاکٹر ہیں اس لیے ان کی ملاقات کرائی جائے۔
عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے سوال پر وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ پمز میں تو انھیں حکومت پہلے بھی اکثر لے جاتی رہی ہے، تو پھر نجی اسپتال کے اخراجات کون ادا کرے گا؟ وکیل عظمیٰ خان نے کہا کہ نجی اسپتال کے اخراجات ہم خود ادا کریں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی کی میڈیکل رپورٹس پبلک نہ ہونے کی گارنٹی کون دے گا؟ کون گارنٹی دے گا کہ میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں ہوگی؟ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور عمران خان کی فیملی کا معاملہ ہے۔
جسٹس نعیم افغان نے استفسار کیا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اسپتال کے باہر مجمع نہیں لگے گا؟ اسپتال میں اور مریض بھی ہوتے ہیں کوئی ڈسٹرب نہ ہو، پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری سیاست کے اصول الگ ہیں،صحت پر سیاست نہیں کریں گے۔