🚨نیکولاس بلانشو کی ایمان افروز داستان* برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور جدید تہذیب کے گہوارے سمجھے جانے والے سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو لوگ نیکولاس بلانشو (Nicolas Blancho) کے نام سے جانتے تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عیسائی پس منظر رکھنے والے ایک آزاد خیال یورپی خاندان کا یہ لڑکا ایک دن اسلام

0

*🚨نیکولاس بلانشو کی ایمان افروز داستان*

 

برف پوش پہاڑوں، نیلگوں جھیلوں اور جدید تہذیب کے گہوارے سمجھے جانے والے سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو لوگ نیکولاس بلانشو (Nicolas Blancho) کے نام سے جانتے تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عیسائی پس منظر رکھنے والے ایک آزاد خیال یورپی خاندان کا یہ لڑکا ایک دن اسلام کی آغوش میں پناہ لے گا، عربی زبان سیکھے گا، قرآن کو اپنا رہنما بنائے گا اور پھر اسی سوئٹزر لینڈ میں ہزاروں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی قیادت کا حصہ بن جائے گا۔

یہ صرف ایک فرد کے مسلمان ہونے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے دل کی داستان ہے جو حق کی تلاش میں بے قرار تھا؛ ایک ایسے ذہن کی سرگزشت ہے جو سوالات کے جنگل میں بھٹک رہا تھا؛ اور ایک ایسی روح کا سفر ہے جو بالآخر اپنے خالق تک پہنچ گئی۔

12 ستمبر 1983ء کو سوئٹزر لینڈ کے شہر بیال (Biel/Bienne) میں پیدا ہونے والے نیکولاس ایک کثیر الثقافتی گھرانے میں پروان چڑھے۔ ان کے والد فرانسیسی النسل تھے جبکہ والدہ جرمن نژاد تھیں۔ گھر کا ماحول اگرچہ مسیحی تھا، لیکن مذہبی وابستگی کمزور تھی۔ والد بعد میں بدھ مت کی طرف مائل ہوگئے جبکہ والدہ رفتہ رفتہ کلیسا سے دور ہوتی چلی گئیں۔ یوں نیکولاس کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں مذہب موجود تو تھا مگر زندگی کا مرکز نہیں تھا۔

بچپن میں وہ عام یورپی بچوں کی طرح شوخ، متحرک اور شرارتی تھے۔ کھیل کود، دوڑ دھوپ اور نت نئی مہم جوئیوں میں مصروف رہتے۔ لیکن تیرہ برس کی عمر میں ان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسکول تبدیل ہوا، پرانے دوست بچھڑ گئے، اور نئی جگہ پر انہیں تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض طلبہ انہیں تنگ کرتے، کبھی مذاق اڑاتے اور کبھی جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے۔

یہ حالات ایک حساس نوجوان کے لیے آسان نہ تھے۔ تحفظ کی تلاش میں وہ ایسے نوجوانوں کے حلقے میں شامل ہوگئے جو لڑائی جھگڑوں اور طاقت کے اظہار کے لیے مشہور تھے۔ کچھ عرصہ تک انہیں محسوس ہوا کہ اب وہ محفوظ ہیں، لیکن جلد ہی ان کا ضمیر بیدار ہوگیا۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہ انہیں مزید اندھیروں کی طرف لے جا رہا ہے۔

یہیں سے ان کی فکری جستجو کا آغاز ہوا۔

وہ زندگی کے بنیادی سوالات پر غور کرنے لگے۔ انسان کیوں پیدا ہوا؟ خدا کون ہے؟ مختلف مذاہب کیوں موجود ہیں؟ سچائی کس کے پاس ہے؟ انہی سوالات نے انہیں کتابوں کی دنیا میں داخل کر دیا۔ انہوں نے بدھ مت کا مطالعہ کیا، ہندو مت کے نظریات پڑھے، عیسائیت کے عقائد پر غور کیا، اور مختلف روحانی تحریکوں کے لٹریچر کا جائزہ لیا۔

لیکن ایک سوال مسلسل ان کے ذہن میں گردش کرتا رہا: اگر خدا ایک ہے تو پھر انسانوں کو انسانوں کی عبادت کیوں کرنی چاہیے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائی عقیدہ انہیں مطمئن نہیں کرتا تھا۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کا احترام کرتے تھے، لیکن انہیں خدا یا خدا کا بیٹا ماننے کے لیے ان کا دل آمادہ نہ ہوتا تھا۔ ان کے اندر توحید کا ایک فطری تصور موجود تھا جو کسی بھی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دینے سے انکار کرتا تھا۔

اسی دوران ان کی دوستی چند البانوی مسلمانوں سے ہوئی۔ مذہب پر گفتگو کے دوران ایک مسلمان دوست نے ان سے کہا:

“تمہارے خیالات اسلام سے بہت قریب ہیں۔”

یہ جملہ نیکولاس کے دل میں گھر کر گیا۔

انہوں نے اسلام کے بارے میں جاننے کا فیصلہ کیا۔ اپنے والد سے اسلامی کتابیں لانے کی درخواست کی۔ والد نے اسے ایک علمی دلچسپی سمجھا اور قرآن مجید کا ترجمہ لا کر دے دیا۔

شاید وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کے ہاتھوں میں دی جانے والی یہ کتاب ان کے بیٹے کی پوری زندگی کا رخ بدلنے والی ہے۔

قرآن کھولا گیا، اور ایک نئی دنیا سامنے آگئی۔

نیکولاس بعد میں بتایا کرتے تھے کہ قرآن کا سب سے پہلا اثر ان پر یہ ہوا کہ انہیں ایک ایسا خدا ملا جو کسی قوم، نسل یا علاقے کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا رب تھا۔ انہیں یہ حقیقت بے حد متاثر کرتی تھی کہ قرآن تمام انبیاء کو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں قرار دیتا ہے اور تمام رسولوں کو توحید کا داعی بتاتا ہے۔

قرآن کے صفحات ان کے سامنے کھلتے گئے اور دل کے بند دریچے بھی۔

اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو ان کی زندگی کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔

ان کے اسکول میں فرانس سے تعلق رکھنے والے چند مسلمان داعیوں نے ایک تعارفی نشست منعقد کی۔ تقریباً تیس جرمن بولنے والے نوجوان اس میں شریک تھے۔ چونکہ نیکولاس فرانسیسی اور جرمن دونوں زبانیں جانتے تھے، اس لیے انہیں مترجم بنا دیا گیا۔

Related Posts

وہ دوسروں کے لیے ترجمہ کرنے آئے تھے، مگر اس روز پیغام سب سے زیادہ ان کے اپنے دل تک پہنچا۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی گفتگو میں اسلام کے عقائد، اللہ کی وحدانیت اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات بیان کی گئیں۔ نیکولاس ہر جملہ فرانسیسی سے جرمن میں منتقل کر رہے تھے، لیکن محسوس یوں کر رہے تھے جیسے ہر لفظ براہِ راست ان کے دل پر اتر رہا ہو۔

جب نشست ختم ہوئی تو وہ خاموش بیٹھے رہے۔ ان کے دل میں ایک عجیب کشمکش برپا تھی۔ پھر ایک داعی نے چند منٹ ان سے گفتگو کی۔

بس چند منٹ اور 16 سالہ نیکولاس نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔

وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“میں مسجد سے ایسے نکلا جیسے کوئی پرندہ آسمان میں آزاد ہوکر پرواز کر رہا ہو۔ میرے دل میں ایسی خوشی تھی جس کا میں نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔”

گھر پہنچتے ہی انہوں نے والدہ کو بتایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ ماں پر گویا بجلی گر گئی۔ انہوں نے سخت مخالفت کی۔ کبھی بیٹے کو جذباتی طور پر واپس لانے کی کوشش کی، کبھی اس کے فیصلے کو وقتی جنون قرار دیا اور کبھی اس کی نئی اسلامی شناخت کا مذاق اڑایا۔ لیکن نیکولاس کے دل میں ایمان کی جو شمع روشن ہو چکی تھی وہ بجھنے والی نہ تھی۔

اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی میں حیران کن تبدیلی آئی۔ جو نوجوان پہلے تعلیم میں اوسط درجے کا سمجھا جاتا تھا، وہ علم کا متلاشی اور رسیا بن گیا۔

انہوں نے اپنی سابقہ فنی تعلیم ترک کی، دوبارہ ثانوی تعلیم کی طرف رجوع کیا اور ایسی محنت کی کہ تقریباً 400 طلبہ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ یہ محض ایک امتحان میں کامیابی نہیں، بلکہ ایک نئے انسان کی پیدائش تھی۔

اب ان کے سامنے زندگی کا واضح مقصد موجود تھا۔ انہوں نے اسلامی علوم کے حصول کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے فرانس کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اسلام اور اسلامی فکر کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد ان کا سفر یمن کی طرف ہوا۔ اس وقت یمن عالم اسلام کے ان مراکز میں شمار ہوتا تھا جہاں دنیا بھر سے طلبہ علوم اسلامیہ حاصل کرنے آتے تھے۔ یمن میں انہوں نے عربی زبان سیکھی، کلاسیکی اسلامی علوم پڑھے اور مسلم معاشروں کو قریب سے دیکھا۔ بعد ازاں یورپی قانون اور اسلامی شریعت کے تقابلی مطالعے پر تحقیقی کام کیا۔

یہ سفر ان کے لیے صرف علمی نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔

وہ جرمن اور فرانسیسی کے ساتھ عربی زبان پر بھی عبور حاصل کر چکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بعد میں وہ مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان ایک مؤثر پل بن گئے۔

سوئٹزر لینڈ واپس آکر انہوں نے اپنی علمی زندگی کو مزید آگے بڑھایا اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن ان کی اصل دلچسپی اب مسلمانوں کی خدمت اور اسلام کی دعوت تھی۔

وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ یورپ میں مسلمانوں کو صرف عبادت گاہوں کی نہیں بلکہ مضبوط نمائندگی، علمی و عملی قیادت اور منظم اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اسی سوچ نے انہیں عملی میدان میں اتار دیا۔

انہوں نے قرآن مجید کے تراجم عام کرنے کی مہم شروع کی تاکہ غیر مسلم سوئس شہری براہِ راست اسلام کے اصل ماخذ کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے مختلف شہروں میں دعوتی کیمپ اور معلوماتی مراکز قائم کرنے کی تحریک دی۔ سوئٹزر لینڈ کے مختلف علاقوں میں تعارفی خیمے نصب کیے، جہاں عام لوگ آکر اسلام کے بارے میں سوالات پوچھ سکتے تھے۔

اس زمانے میں یورپ میں اسلام کے خلاف غلط فہمیاں بڑھ رہی تھیں۔ 11 ستمبر واقعہ کے بعد مسلمانوں کو شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا تھا۔ ایسے ماحول میں نیکولاس نے میڈیا، عوامی اجتماعات اور علمی مباحث کے ذریعے اسلام کا مثبت تعارف کرانے کی کوشش کی۔

ان کی خطابت، حاضر جوابی اور استدلالی قوت نے انہیں جلد ہی ممتاز کر دیا۔ وہ مخالفین کے اعتراضات کا جواب دلائل سے دیتے اور اسلام کی تعلیمات کو جدید یورپی ذہن کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کرتے۔

2006ء میں جب گستاخانہ خاکوں کا مسئلہ سامنے آیا تو انہوں نے سوئٹزر لینڈ میں احتجاجی سرگرمیوں کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ آزادیٔ اظہار اور مذہبی توہین کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعد ازاں انہوں نے سوئٹزر لینڈ میں مسلمانوں کی اجتماعی نمائندگی کے لیے ادارہ جاتی کوششوں کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے مختلف اسلامی مراکز اور تنظیموں کو قریب لانے کی کوشش کی۔ انہی سرگرمیوں کے نتیجے میں وہ اسلامی تنظیمی قیادت کے نمایاں چہروں میں شمار ہونے لگے۔

عبد اللہ ابو عمار (Nicolas Blancho) کی دعوتی خدمات صرف تنظیم سازی تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی تربیت، دینی تعلیم، بین المذاہب مکالمے، میڈیا نمائندگی، اسلامی شعور کی بیداری اور مسلم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی مسلسل کام کیا۔ وہ مساجد میں دروس دیتے، اسلامی مراکز میں لیکچر کرتے، سوال و جواب کی نشستوں میں شریک ہوتے اور متعدد افراد کی اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرتے رہے۔ اب وہ سوئٹزر لینڈ کے سب سے بڑے مذہبی رہنما ہیں اور اسلامک کونسل آف سوئٹرز لینڈ Islamic Central Council of Switzerland (ICCS) کے صدر۔

حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کا تعلق نسل، زبان، وطن یا تہذیب سے نہیں بلکہ دل کی طلب سے ہوتا ہے۔ ایک فرانسیسی النسل باپ اور جرمن نژاد ماں کے گھر پیدا ہونے والا نوجوان جب سچائی کی تلاش میں نکلا تو اسے قرآن میں اپنے سوالوں کے جواب مل گئے۔ پھر وہی نوجوان علم حاصل کرنے کے لیے یورپ سے عرب دنیا تک سفر کرتا ہے، مختلف زبانیں سیکھتا ہے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے اور آخرکار اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے۔

اللہ انہیں استقامت دے اور کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

 

 

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.