العلماء، مبلغِ اسلام، حضرت اقدس مولانا محمد احسان الحق صاحب نور اللہ مرقدہٗ کی حیات و خدمات

0

استاذُ العلماء، مبلغِ اسلام، حضرت اقدس مولانا محمد احسان الحق صاحب نور اللہ مرقدہٗ کی حیات و خدمات

 

زندگی کے سفر میں ایسے مواقع خال خال ہی پیش آتے ہیں کہ کسی برگزیدہ ہستی سے غائبانہ قلبی تعلق استوار ہو، زیارت کا اشتیاق دل میں موجزن ہو، تلمذ کی آرزو سینے میں پرورش پاتی رہی ہو، مگر دیدۂ ظاہری اس سعادت سے بہرہ ور نہ ہو سکے؛ اور پھر جب وہ ہستی اس عالمِ فانی سے رخصت ہو جائے تو اس کی مفارقت کا صدمہ محض دل ہی کو سوگوار نہ کرے، بلکہ کئی روز تک بے اختیار اندرونِ خانہ درودِ پاک لبوں پر جاری رہے۔

 

حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمہ اللہ کے وصال کی یہ خبرِ جانکاہ سننے کے بعد سے یہی کیفیت طاری ہے۔ دل اس حادثۂ فراق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور زبان ہے کہ بے اختیار درودِ پاک سے تر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دل کسی ایسی شخصیت کی جدائی پر نوحہ کناں ہے جس سے ملاقات کی حسرت تو باقی رہی، مگر جس کے تذکرے، فیض اور دینی خدمات سے قلبی نسبت بہرحال قائم رہی۔

 

چنانچہ اسی قلبی کیفیت کے زیرِ اثر، ان کی یاد کے تبرکات سمیٹنے، ان کی حیاتِ مستعار کے چند روشن نقوش محفوظ کرنے اور اس مردِ خدا کی خدمات کے بعض گوشوں کو سپردِ قرطاس کرنے کی غرض سے، جو معلومات دستیاب ہو سکیں، انہیں یکجا کرکے یہ چند سطور پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔ یہ کسی جامع سوانح یا تحقیقی تذکرے کا دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عقیدت مند کی جانب سے اپنے قلبی تعلق کا ایک ادنیٰ سا اظہار اور ایک عظیم دینی شخصیت کی یاد کو تازہ رکھنے کی ایک حقیر سی کاوش ہے۔

 

شخصیت اور امتیازات

 

بعض ہستیاں کسی ایک وصف یا کسی ایک میدانِ کمال سے متعارف نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی ذات میں متعدد اوصاف اس طرح مجتمع ہو جاتے ہیں کہ ان کی شخصیت ایک ہمہ جہت دینی کردار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ بھی انہی خوش نصیب نفوس میں سے تھے، جن کے وجود میں اخلاص و للہیت، صبر و شکر، حسنِ ظن، وسعتِ قلب، ثبات و استقامت اور علم کے مقتضیات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا وصف نمایاں طور پر جلوہ گر تھا۔

 

درس و تدریس کا میدان ہو یا عبادت و اصلاح کی خلوتیں، خلقِ خدا سے معاملات ہوں یا دعوت و تبلیغ کی ہمہ گیر جدوجہد؛ ہر مقام پر ان کی زندگی میں اعتدال، متانت، سنجیدگی اور دین کے ساتھ گہری وابستگی نمایاں دکھائی دیتی تھی۔ ان کی شخصیت میں علم اور عمل، تعلیم اور تزکیہ، دعوت اور اصلاح اس حسنِ تناسب کے ساتھ جمع تھے کہ ایک پہلو دوسرے کی تکمیل کرتا محسوس ہوتا تھا۔

 

حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کا ایک فرمان گویا مولانا احسان الحق رحمہ اللہ کی پوری حیاتِ دینی کا جامع خلاصہ ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

 

’’مولوی احسان الحق نے تینوں چیزوں کو جمع کیا: تبلیغ، تعلیم، تزکیہ۔‘‘

 

یہ مختصر مگر جامع جملہ درحقیقت ان کی پوری زندگی کے تین بنیادی ستونوں کی نشان دہی کرتا ہے۔

 

پیدائش اور خاندانی ماحول

 

حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ 1942ء میں فیصل آباد کے نواحی علاقے کے ایک گاؤں میں تولد ہوئے۔ ان دنوں آپ کے والدِ گرامی، حاجی محمد بشیر صاحب، سلسلۂ ملازمت کے باعث وہیں مقیم تھے۔

 

حاجی محمد بشیر صاحب ان جلیل القدر اہلِ فن میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے پاکستان میں شعبۂ مواصلات کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل و استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہری پور میں قائم ہونے والی ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری (TIP) کے بانی و مبانی انجینئر کی حیثیت سے بھی ان کا نام اس شعبے کی تاریخ میں نمایاں نظر آتا ہے۔ اگرچہ ان کی عملی زندگی فنی مہارت، انتظامی بصیرت اور منصبی ذمہ داریوں سے عبارت تھی، تاہم دعوت و تبلیغ سے گہری وابستگی نے ان کی حیات کا رخ یکسر بدل دیا۔ یوں وہ محض ایک ماہرِ فن اور سرکاری افسر کی حیثیت تک محدود نہ رہے، بلکہ دینی حمیت، دعوتی تڑپ اور خدمتِ دین کے باعث ایک ممتاز دینی شخصیت کے طور پر بھی اپنا مقام منوا گئے۔

 

جب رائے ونڈ کے تبلیغی مرکز کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کی امارت ان کے سپرد کی گئی، اس وقت بھی وہ محکمۂ ٹیلی فون سے وابستہ تھے اور پی ٹی سی ایل میں بحیثیتِ ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا معمول نہایت منفرد اور قابلِ رشک تھا: یومیہ مصروفیات کا ابتدائی حصہ منصبی فرائض کی ادائیگی میں صرف ہوتا، جب کہ باقی اوقات مرکز کے دینی، دعوتی اور تبلیغی مشاغل کے لیے وقف رہتے۔ یوں ملازمت کی مصلحتیں اور دعوتِ دین کی ذمہ داریاں ان کی زندگی میں باہم متصادم ہونے کے بجائے ایک ہی مقصد، یعنی رضائے الٰہی اور خدمتِ دین، کے تحت جمع ہو گئی تھیں۔

 

حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ نے فیصل آباد میں مڈل تک عصری تعلیم حاصل کی۔ 1947ء سے 1954ء تک ان کا قیام کراچی میں رہا۔

 

دینی تعلیم

 

حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ کو مولانا احسان الحق صاحب کی دینی تربیت کی ہمیشہ فکر رہتی تھی۔ کبھی حاجی محمد بشیر صاحب سے اس موضوع پر گفتگو ہوتی تو حاجی صاحب نہایت اطمینان اور اعتماد کے ساتھ فرمایا کرتے کہ جو شخص دوسروں کی اولاد کی دینی خیرخواہی میں مصروف ہو، اللہ تعالیٰ اس کی اپنی اولاد کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔

 

بعد کے حالات نے ان کے اس حسنِ ظن اور یقین کو صداقت کی روشن دلیل فراہم کر دی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد سے دین کی نمایاں خدمت لی۔

 

دینی تعلیم کے لیے حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ، مولانا احسان الحق صاحب کو فقیر والی میں مفتی فاروق احمد صاحب رحمہ اللہ کی خدمت میں لے گئے۔ رائے ونڈ اسٹیشن پر اچانک مولانا احسان صاحب نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ حاجی عبد الوہاب صاحب پریشان ہوئے، لیکن کچھ دیر بعد جب مولانا واپس آئے تو ان کا سر منڈا ہوا تھا۔

 

وجہ دریافت کی گئی تو بتایا کہ بال سنت کے مطابق نہیں تھے، اس لیے جس دینی ماحول میں جا رہا ہوں، وہاں پہنچنے سے قبل اپنی ظاہری وضع قطع بھی اسی ماحول کے مطابق کر لی ہے۔

 

یہ واقعہ اگرچہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، مگر طالب علمی کے ابتدائی زمانے ہی میں دینی ماحول سے ان کی ذہنی و قلبی وابستگی اور سنت کے مطابق اپنے ظاہر و باطن کو ڈھالنے کے جذبے کی ایک جھلک اس میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔

 

طالب علمی، محنت اور اطاعتِ استاد

 

فقیر والی میں حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ نے مفتی فاروق احمد صاحب رحمہ اللہ سے کسبِ علم کیا۔ اس علمی سفر میں مولانا فاروق صاحب اور ان کے مشہور زمانہ صاحب زادے، لسانُ التبلیغ پروفیسر مولانا محمد احمد انصاری بہاولپوری، نے بھی انہیں علومِ نبوت، قرآن و حدیث سے بہرہ ور کیا اور ان کے علمی ذوق کی آبیاری فرمائی۔

 

حضرت کا شوقِ تحصیلِ علم اور اپنے استاد سے تعلقِ خاطر اس درجہ تھا کہ مفتی فاروق احمد صاحب رحمہ اللہ جب ٹانگے میں سفر فرما رہے ہوتے تو مولانا ساتھ ساتھ سبق سناتے جاتے۔ بعد کے زمانے میں اس دور کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ کبھی ان کا جی چاہتا کہ راستے کے گرد و پیش کے مناظر بھی دیکھیں، مگر استاد کی طرف سے آواز آتی:

 

’’احسان! پڑھتے رہو۔‘‘

 

استاد کی ہدایات کی پابندی محض ان کی ظاہری موجودگی تک محدود نہ تھی۔ مفتی فاروق احمد صاحب رحمہ اللہ ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ احسان میرے سامنے بھی ویسا ہی رہتا ہے اور میری عدمِ موجودگی میں بھی اس کے طرزِ عمل میں کوئی فرق نہیں آتا۔

 

ایک موقع پر مفتی فاروق احمد صاحب رحمہ اللہ نے اپنے اس ہونہار شاگرد پر اعتماد اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا کہ اگر قیامت کے دن ان سے پوچھا گیا کہ تم کیا لے کر آئے ہو تو وہ احسان کو پیش کر دیں گے اور عرض کریں گے: میں یہ سرمایہ لے کر آیا ہوں۔

 

حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ نے فارسی کی ابتدائی کتابوں سے مشکوٰۃ شریف تک کا نصاب محض تین سال کے مختصر عرصے میں مفتی فاروق احمد صاحب رحمہ اللہ سے انفرادی طور پر مکمل کیا۔ اس کے بعد دورۂ حدیث کے لیے مظاہر العلوم سہارنپور، جسے دیوبندِ ثانی بھی کہا جاتا ہے، تشریف لے گئے۔

 

مظاہر العلوم سہارنپور

 

مظاہر العلوم سہارنپور میں حضرت کو اپنے حسنِ اخلاق، یکسوئی، علمی شغف اور خدمت کے جذبے کے باعث اساتذۂ کرام کی خصوصی محبت حاصل ہوئی۔ وہاں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ سے بخاری شریف، مولانا اسعد اللہ صاحب رحمہ اللہ سے ابوداؤد شریف اور مولانا امیر محمد صاحب رحمہ اللہ سے ترمذی شریف پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

 

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ کی خدمت کے مختلف امور دوسرے طلبہ پہلے ہی اپنے ذمے لے چکے تھے۔ مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ بھی اپنے شیخ کی خدمت کی سعادت کے متمنی تھے، مگر بظاہر کوئی ایسا موقع میسر نہیں آ رہا تھا جسے وہ اپنے ذمے لے سکیں۔

 

بالآخر انہوں نے اس کا ایک نہایت خاموش مگر دل نشیں طریقہ دریافت کر لیا۔ تہجد کے وقت مسجد کی سیڑھیوں کے قریب کھڑے ہو جاتے۔ جب شیخ صاحب مسجد تشریف لاتے تو انہیں سہارا دے کر سیڑھیاں چڑھاتے۔ یوں انہوں نے خاموشی کے ساتھ خدمت کا وہ گوشہ تلاش کر لیا جو ابھی کسی دوسرے کے ذمے نہ تھا۔

 

حضرت نے 1960ء میں دورۂ حدیث مکمل کیا۔ اگلے سال، 1961ء میں پاکستان واپس تشریف لائے اور مدرسہ عربیہ رائے ونڈ میں تدریسی خدمات سے وابستہ ہو گئے۔ اس ادارے کے ابتدائی زمانے میں مولانا ظاہر شاہ صاحب اور مولانا احسان الحق صاحب رحمہا اللہ تدریس کی ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ حضرت مولانا اپنی زندگی کے آخری دور تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔

 

اصلاحی نسبت و خلافت

 

حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ نے اپنی باطنی اصلاح اور تزکیۂ نفس کے لیے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ سے تعلق قائم کیا اور انہی سے اجازت و خلافت کی نعمت بھی حاصل کی۔

 

مفتی زین العابدین صاحب رحمہ اللہ اور حضرت قاضی عبد القادر صاحب رحمہ اللہ نے بھی انہیں خلافت سے سرفراز فرمایا تھا۔

 

مفتی زین العابدین صاحب رحمہ اللہ نے اس امر کی صراحت فرمائی تھی کہ انہوں نے مولانا احسان الحق صاحب کو محض کسی خدمت سے خوش ہو کر خلافت نہیں دی، بلکہ وہ اس منصب کی اہلیت رکھتے تھے، اسی بنا پر انہیں اجازت و خلافت عطا کی گئی۔

 

بہت سے لوگوں نے حضرت سے اصلاحی تعلق قائم کیا اور ان سے وابستہ افراد کی زندگیوں میں دعوت و تبلیغ کی فکر، دینی ترتیب، اصلاحِ باطن اور عملی زندگی میں شریعت کی پاس داری نمایاں طور پر محسوس کی جاتی تھی۔

 

درس و تدریس

 

Related Posts

حضرت مولانا رحمہ اللہ نے درسِ نظامی کی بیشتر کتب تدریس فرمائیں، تاہم مشکوٰۃ شریف، بالخصوص اس کا پہلا حصہ، اور ابوداؤد شریف ان کی تدریسی زندگی میں خصوصی امتیاز رکھتے تھے۔

 

ان کے دروس علمی نکات، دقیق مباحث اور فکری فوائد سے بھرپور ہوتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ شاگردوں نے ان کے افادات کو تحریری صورت میں محفوظ کرنے کی کوشش کی اور یوں ان کا یہ علمی سرمایہ بعد کی نسلوں کے لیے بھی نفع بخش ثابت ہوا۔

 

مشکوٰۃ شریف کے دروس ’’التقرير الصبيح على مشكوة المصابيح‘‘ کے عنوان سے مرتب ہوئے۔ اس میں سوال و جواب کے اسلوب سے مختلف مسائل کی توضیح کی گئی اور تبلیغی ترتیب کے متعلق پیدا ہونے والے متعدد اشکالات کے جوابات احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں دیے گئے۔

 

ابوداؤد شریف کے دروس ’’تقریرِ ابی داؤد‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔

 

زندگی کے آخری ایام میں طویل علالت کے باعث چلنے پھرنے اور گفتگو کرنے میں دشواری پیش آتی تھی، لیکن اس جسمانی ضعف کے باوجود جب سبق دیتے تو علمی افادیت اور روحانی تاثیر کی وہ کیفیت برقرار رہتی جو ان کی پوری تدریسی زندگی کا امتیاز تھی۔

 

طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت

 

سبق شروع کرتے ہوئے کبھی طلبہ سے اپنی محبت کا اظہار فرماتے اور کہتے:

 

’’إني أحبكم في الله‘‘

 

کبھی ظاہری خیریت دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ایمانی کیفیت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے بارے میں بھی استفسار فرماتے:

 

’’كيف حالكم؟ كيف إيمانكم؟ كيف محبتكم لربكم تبارك وتعالى؟‘‘

 

طلبہ کو حدیث پڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے کہ اس قیمتی زمانے سے بھرپور فائدہ اٹھاؤ، کیونکہ زندگی میں یہ موقع دوبارہ میسر نہیں آئے گا۔

 

کبھی ان کے لیے دعا فرماتے:

 

’’زادكم الله إيماناً وعلماً ودعوةً وطاعةً لله ورسوله۔‘‘

 

اللہ تعالیٰ نے انہیں احادیثِ نبویہ کے معانی و مضامین سے دقیق نتائج و لطیف نکات اخذ کرنے، اور پیچیدہ و مشکل علمی مباحث کو نہایت موزوں، مؤثر اور بلیغ مثالوں کے ذریعے سہل الفہم بنا دینے کی غیر معمولی ملکۂ تدریس عطا فرمایا تھا۔ ایامِ عافیت میں ان کا درس جس علمی گیرائی، استدلالی قوت اور حسنِ تفہیم کا مظہر ہوا کرتا تھا، وہ اپنی مثال آپ تھا؛ تاہم علالت و ضعف کے دور میں بھی، جب طبیعت کسی قدر مائل بہ افاقہ ہوتی، تو ان کی مختصر سی گفتگو سے ایسے علمی جواہر اور حکمت آفریں نکات جلوہ گر ہوتے کہ سامعین کو ان کے سابقہ علمی و تدریسی کمالات کی پوری جھلک دکھائی دیتی اور ان کی غیر معمولی علمی رفعت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا تھا۔

 

حدیثِ رسول ﷺ کی قراءت کے وقت ادب اور عبارت کی صحت کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ رسول اللہ ﷺ پر درودِ پاک یا کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ دعائیہ کلمات جلدی میں ادا کرنے کو پسند نہ فرماتے، بلکہ اطمینان، وقار اور صحیح ادائیگی کے ساتھ دوبارہ پڑھواتے۔ عبارت میں لغزش ہوتی تو متوجہ فرماتے اور ترجمے میں کوئی کمی رہ جاتی تو مکمل اور بامحاورہ مفہوم سمجھاتے۔

 

جو طالب علم عمدگی سے پڑھتا، اسے ’’ما شاء اللہ‘‘ کہہ کر حوصلہ افزائی فرماتے اور دعاؤں سے نوازتے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے طلبہ سے ان کا نام، شہر اور ملک دریافت فرماتے اور ان کے لیے خصوصی دعا کرتے۔ ایسے مواقع پر کئی مرتبہ ان کی آنکھیں اشک بار ہو جاتیں اور آواز جذبات کی شدت سے بھر جاتی۔

 

علمی آثار اور ترجمۂ حیاۃ الصحابہ

 

حضرت مولانا رحمہ اللہ نے اگرچہ کوئی باقاعدہ مستقل تصنیف اپنی زندگی میں یادگار کے طور پر نہیں چھوڑی، تاہم ان کے دروس اور علمی افادات شاگردوں کی مساعی سے تحریری صورت میں محفوظ ہو گئے۔ مشکوٰۃ شریف اور ابوداؤد شریف کی تقاریر اسی علمی ورثے کی اہم یادگاریں ہیں۔

 

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ کی تقریرِ بخاری کو جمع کرنے والے تین نمایاں شاگردوں میں بھی حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ کا شمار ہوتا تھا۔

 

حضرت مولانا عمر پالن پوری صاحب رحمہ اللہ ایک طویل عرصے تک انہیں ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ کا اردو ترجمہ کرنے کی ترغیب دیتے رہے، لیکن حضرت اپنی طبیعت کے انکسار اور تواضع کے باعث اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرنے سے گریزاں رہے۔

 

بالآخر 1990ء میں رائے ونڈ اجتماع سے واپسی کے موقع پر حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمہ اللہ نے لاہور ایئرپورٹ پر حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ سے فرمایا کہ احسان سے ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ کا ترجمہ کروایا جائے۔

 

حاجی عبد الوہاب صاحب رحمہ اللہ نے حضرت مولانا سے فرمایا کہ اب حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب کے واضح حکم کے بعد معذرت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چنانچہ حضرت نے اس ذمہ داری کو قبول فرمایا اور ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ کو اردو زبان کے قالب میں منتقل کیا۔

 

اس ترجمے نے اس عظیم کتاب کو اہلِ علم کے محدود دائرے سے نکال کر عام اردو خواں طبقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ زبان سہل، رواں اور عام فہم تھی، تاہم لفظی رعایت کے ساتھ اصل عبارت کا مدعا اور مفہوم بھی پوری طرح منتقل کیا گیا تھا۔

 

طبیعت، سادگی اور فکری آگہی

 

حضرت مولانا رحمہ اللہ نہایت سنجیدہ، متین اور متوازن طبیعت کے مالک تھے۔ موقع و محل کی مناسبت سے خوش طبعی بھی فرماتے اور ان کی حاضر جوابی مجلس کی فضا میں شگفتگی پیدا کر دیتی تھی۔ کسی معاملے کو مختلف جہتوں اور پہلوؤں سے دیکھنے، اس کے دقائق تک پہنچنے اور پھر نہایت واضح، مربوط اور مدلل انداز میں اسے بیان کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔

 

سادگی ان کے رہن سہن کا نمایاں وصف تھی، مگر اس سادگی کو دنیا کے حالات سے بے خبری یا زمانے کے نشیب و فراز سے بے اعتنائی پر محمول کرنا درست نہ تھا۔ وہ بین الاقوامی حالات، بڑی طاقتوں کی حکمتِ عملی، اقوام و ملل کے طرزِ عمل، دشمنوں کے طریقۂ کار اور قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر گہری نظر رکھتے تھے۔

 

جب قوموں کی تاریخ، ان کے عروج و زوال اور بننے بگڑنے کے اسباب پر گفتگو فرماتے تو ان کی وسعتِ مطالعہ، گہری بصیرت اور دور اندیشی نمایاں ہو جاتی۔ ان کے ظاہر کی سادگی کے پسِ پردہ فکر کی ایک وسیع دنیا آباد تھی۔

 

دعوتی ذمہ داریاں اور مستورات کا کام

 

بڑھتی ہوئی عمر، مسلسل علالت اور جسمانی ضعف کے باوجود حضرت نے مرکز کی متعدد ذمہ داریاں اپنے پاس برقرار رکھی ہوئی تھیں۔ مستورات کے دینی کام کی نگرانی بھی فرماتے۔ گھر کی خواتین کو جمع کرکے ان سے مختلف علاقوں کی کارگزاری سنتے، کام کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے اور آئندہ کے لیے مناسب رہنمائی فرماتے۔

 

حضرت کی اہلیہ محترمہ بھی آخری وقت تک مستورات کے دینی کام کی نگرانی کرتی رہیں۔ اپریل میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس جانکاہ صدمے کے باوجود حضرت نے اپنی دینی ذمہ داریوں اور امت کی فکر کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا۔

 

صرف انیس سال کی عمر میں حضرت کو مصر جانے والی جماعت کا امیر بنایا گیا۔ 1968ء میں فلسطین، شام اور سعودی عرب کے سفر کے لیے تشکیل دی جانے والی جماعت میں بھی شریک ہوئے۔

 

فلسطین میں قیام کے دوران ایک مرتبہ مسجدِ اقصیٰ میں ظہر یا عصر کی نماز کا وقت آیا اور امام موجود نہ تھے۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت مولانا سے نماز پڑھانے کی درخواست کی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں مسجدِ اقصیٰ کے اس مبارک مقام پر امامت کا شرف عطا فرمایا جہاں امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی تھی۔

 

وفات

 

علم، دعوت، تدریس، اصلاح اور خدمتِ دین میں بسر ہونے والی یہ بابرکت زندگی بالآخر 2 ستمبر 2026ء، مطابق 19 ربیع الاول 1448ھ، بعد از مغرب اپنے اختتام کو پہنچی۔

 

حضرت مولانا احسان الحق صاحب رحمہ اللہ کے وصال سے ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ، متعلقین اور دعوت و تبلیغ سے وابستہ بے شمار افراد ایک مشفق بزرگ، صاحبِ بصیرت عالم، مخلص داعی اور خیرخواہ مربی کی شفقتوں سے محروم ہو گئے۔

 

حضرت آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ان کے افادات، ان کے پڑھائے ہوئے تلامذہ، قلم بند کیے گئے دروس، ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ کا اردو ترجمہ، دعوتی جدوجہد اور ان سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں میں پیدا ہونے والی دینی تبدیلیاں ان کی خدمات کی یاد کو زندہ رکھیں گی۔

 

شخصیات فنا ہو جاتی ہیں، مگر ان کے چھوڑے ہوئے نقوش باقی رہتے ہیں؛ اہلِ علم رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا علم شاگردوں کے سینوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے؛ داعیانِ حق دنیا سے پردہ فرما جاتے ہیں، مگر ان کی دعوت ان لوگوں کے کردار و اعمال میں زندہ رہتی ہے جنہوں نے ان سے کچھ پایا ہو۔

 

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا محمد احسان الحق صاحب رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی علمی، اصلاحی اور دعوتی مساعی کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

 

عثمان غنی رانا

 

ماخذ: زیرِ نظر تحریر کی ترتیب و تدوین میں وٹس ایپ کے ذریعے موصول شدہ مضمون، از قلمِ ابو ذکوان محمد مبشر اکرام، فاضلِ مدرسۂ عربیہ رائے ونڈ، 2018ء، سے حاصل شدہ معلومات سے حتی المقدور استفادہ کیا گیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.