چیف جیسٹس کی لاپتہ افراد کے کیسز اور قیدیوں کی شکایات پر فوری کارروائی کی یقین دہانی

0

اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف جسٹس سپریم کورٹ، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ایک مضبوط ادارہ ہے، جس کی سمت کو بہتر کر کے انصاف کی فراہمی کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے اراکین سے ملاقات کے دوران اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے وژن پر روشنی ڈالی۔

سپریم کورٹ کا کردار اور ججز کی آزادی

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایک مستحکم ادارہ ہے، جسے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ ہر جج آزاد ہے اور اپنے کیسز کو اپنی سمجھ کے مطابق چلاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ججز پر تنقید تعمیری ہونی چاہیے تاکہ ادارے کو بہتر بنایا جا سکے۔

اصلاحاتی اقدامات اور کیس مینجمنٹ

چیف جسٹس نے بتایا کہ کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کئی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • سپریم کورٹ میں کیسز کے لیے واٹس ایپ اور ای میل کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ سائلین کو تمام احکامات اور تفصیلات بروقت مل سکیں۔
  • پرانے کیسز کو روزانہ کی بنیاد پر اسپیشل بینچز میں نمٹایا جائے گا۔
  • انتخابی عذرداری، فوجداری، اور ٹیکس کے مقدمات کے لیے خصوصی بینچز تشکیل دیے جا چکے ہیں۔

لاپتہ افراد اور قیدیوں کے مسائل

چیف جسٹس نے گوادر اور کوئٹہ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے کیسز نے انہیں بہت متاثر کیا، اور ان معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ جیلوں کے دوروں میں قیدیوں نے دیرینہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی شکایت کی، جس پر فوری ایکشن لیا جا رہا ہے۔

اے ڈی آر نظام اور مفت قانونی معاونت

چیف جسٹس نے بتایا کہ متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے نظام کو اسلام آباد سے شروع کیا جا رہا ہے اور یہ پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ ریٹائرڈ ججز کو اس نظام کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ مستحق سائلین کو ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں مفت وکیل کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

عدلیہ میں اتحاد اور مشترکہ وژن

انہوں نے کہا کہ تمام ججز بھائیوں کی طرح ہیں اور اختلافات کے باوجود مشترکہ حکمت عملی سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔ گزشتہ چند سال عدلیہ کے لیے چیلنجنگ تھے، لیکن اب اصلاحات اور اتحاد کے ذریعے معاملات بہتر کیے جا رہے ہیں۔

Related Posts

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.