رضااللہ

Pakistan's Razaullah (L) hits a six on day three of the third test match between England and Pakistan at Edgbaston cricket ground in Birmingham, central England, on September 11, 2026. (Photo by Darren Staples / AFP) / RESTRICTED TO EDITORIAL USE. NO ASSOCIATION WITH DIRECT COMPETITOR OF SPONSOR, PARTNER, OR SUPPLIER OF THE ECB
0

رضااللہ: تمغہ نہیں، سلیکٹرز کے خلاف چارج شیٹ

دورے کا روشن اور شرمناک پہلو ایک ہی نوجوان رضااللہ سے وابستہ ہے۔ مردان سے تعلق رکھنے والے اس 21 سالہ فاسٹ باؤلر نے ڈیبیو پر چار وکٹیں لیں۔ 90 میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گیندیں کرائیں اور ان انگلش کھلاڑیوں کے منہ بند کردیے جو عباس، محمد علی، خرم شہزاد کی میڈیم پیس باؤلنگ کا مذاق اڑا رہے تھے۔ رضااللہ نے بتا دیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور یہ تیز باؤلروں کا ملک ہے، تاہم بری سلیکشن اور میرٹ پر کھلاڑیوں کو بروقت مواقع نہ ملنا ایک الگ ایشو ہے۔

رضااللہ نے باؤلنگ کے بعد بیٹنگ میں تو خیر کرشمہ ہی دکھا دیا۔ پوری سیریز میں پاکستانی بیٹنگ ڈری سہمی لگی، انگلش باؤلرز شیر بنے ہوئے تھے، رضااللہ نے یوں بیٹ چلایا کہ ان شیروں کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ نویں نمبر پر آ کر 63 گیندوں پر 81 رنز بنا ڈالے۔ نو شاندار چھکے شامل تھے۔ نوجوان جذباتی ہے، ورنہ اگر تھوڑی سی مزید کوشش کرتا اور قدرے تحمل دکھاتا تو ڈیبیو سنچری بن جانی تھی۔ شرمناک یہ کہ وہ اصل سکواڈ میں نہیں تھا اور ایمرجنسی میں بلا کر ویزا وغیرہ لگوایا گیا۔

رضااللہ کی کامیابی سلیکٹرز کے لیے تمغہ نہیں، چارج شیٹ ہے۔ وہ اگر ڈیبیو کے قابل تھا تو ابتدا میں یا ویسٹ انڈیز کے لیے کیوں نہ چنا؟ اگر تیار نہیں تھا تو دو شکستوں کے بعد مشکل ماحول میں پھینکنا کیسی منصوبہ بندی تھی؟ اب اس ہیرے پر محنت کر کے اسے تراشا جائے۔ رضااللہ کو وقار یونس جیسے باؤلر سے دو تین ہفتوں کا کوچنگ کورس کرایا جائے اور اس کی فٹنس، ورک لوڈ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کا واضح پلان بنا کر کھلایا جائے۔

Related Posts

ایسے فاسٹ باؤلر شاذونادر ملتے ہیں اور پاکستان کئی قیمتی پیسرز ناقص ورک لوڈ مینجمنٹ کی وجہ سے جلد کھو چکا ہے۔ محمد زاہد کو کون بھول سکتا ہے؟ رضااللہ کے ساتھ یہ غلطی دہرانے کی گنجائش نہیں۔

ناقابلِ فہم سلیکشن بھی ناکامی کی جڑ ہے۔ آؤٹ آف فارم سلمان علی آغا کو پہلے ٹیسٹ کی کپتانی دے کر اگلے میچ میں نکال دیا گیا۔ جو کھلاڑی قیادت کا اہل تھا، پلیئنگ الیون کے قابل کیوں نہ رہا؟ اس سوال کو اُلٹا کر لیں تو یہ بنتا ہے کہ جو ٹیم میں سلیکشن کےقابل نہیں تھا، اسے کپتان کیوں بنایا گیا؟ پہلے ٹیسٹ میں ویسے سعود شکیل کو کپتان بنانا چاہیے تھا۔

محمد رضوان کی خراب فارم ویسٹ انڈیز ہی میں خبردار کر چکی تھی۔ انگلینڈ میں کسی اِن فارم ریڈ بال وکٹ کیپر کو موقع ملنا چاہیے تھا۔ دوستی، تعلق یا پرانی کارکردگی پر سلیکشن کا تاثر شفاف فیصلوں ہی سے ختم ہوگا۔

عامر خاکوانی کا مکمل بلاگ پہلے کمنٹ میں

 

(اے ایف پی تصاویر)

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.