کوئٹہ: بلاول بھٹو زرداری آج کوئٹہ پہنچ کر صحت کے 11 منصوبوں کا افتتاح کریں گے

0

کوئٹہ: بلاول بھٹو زرداری آج کوئٹہ پہنچ کر صحت کے 11 منصوبوں کا افتتاح کریں گے، بلوچستان ٹی وی زرائع کے مطابق وزیراعلی ہاؤس میں تقریب کا آغاز شام چار بجے ہوگا۔

 

کن کن منصوبہ کا افتتاح کریں گے۔ ؟

 

1, ٹراما ایمرجنسی اینڈ رسپانس انسٹیٹیوٹ

 

کوئٹہ کے اسپنی روڈ پر قائم 150 بستروں پر مشتمل جدید ٹراما سینٹر بلوچستان میں ہنگامی طبی خدمات کے نظام میں ایک تاریخی اضافہ ہوگا۔ یہ ادارہ روڈ حادثات، قدرتی آفات، دھماکوں اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری اور معیاری علاج فراہم کرے گا، ادارے میں جدید آپریشن تھیٹرز، انتہائی نگہداشت یونٹس، تشخیصی سہولتیں اور ایمرجنسی وارڈز قائم کیے گئے ہیں۔ طبی عملے کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی کے تعاون سے خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ عالمی معیار کے مطابق علاج فراہم کیا جا سکے۔

 

بینظیر ایمبولینس سروس برائے ہنگامی حالات

 

یہ منصوبہ بلوچستان میں مریضوں کو بروقت اسپتال منتقل کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے، خاص طور پر حاملہ خواتین، حادثات کے زخمیوں اور تشویشناک مریضوں کے لیے اس منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے، اس منصوبے کے تحت مختلف اضلاع میں ایمبولینس کنٹرول مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ تربیت یافتہ عملہ اور جدید ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں تاکہ دور دراز علاقوں تک فوری طبی امداد پہنچائی جا سکے۔

 

پیپلز ایئر ایمبولینس

 

بلوچستان حکومت نے پاکستان کی پہلی صوبائی سطح کی سرکاری ایئر ایمبولینس سروس شروع کی ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں فوری طبی امداد اور مریضوں کی ہنگامی فضائی منتقلی کو ممکن بنانا ہے، اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے نیا جہاز خریدنے کے بجائے سرکاری فضائی بیڑے میں موجود ایک طیارے کو جدید ایئر ایمبولینس میں تبدیل کیا، جس سے سرکاری اخراجات میں بڑی بچت ہوئی اور منصوبہ فوری طور پر فعال بنایا گیا، یہ ایئر ایمبولینس جدید طبی آلات، آکسیجن سسٹم، مانیٹرنگ مشینوں اور نوزائیدہ بچوں کی ہنگامی منتقلی کے لیے خصوصی انکیوبیٹر سے لیس ہے، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کی منفرد سہولت ہے۔

 

باچا خان میموریل اسپتال

 

کوئٹہ میں 50 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال خواتین اور بچوں کے علاج کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اسپتال میں زچہ و بچہ کی نگہداشت، بچوں کے امراض، ایمرجنسی خدمات، تشخیصی سہولتیں اور خصوصی علاج فراہم کیا جائے گا، اسپتال جدید طبی آلات سے لیس ہے اور اس کے انتظام کے لیے شہید ذوالفقار علی بھٹو فاؤنڈیشن کے ساتھ شراکت داری کی گئی ہے تاکہ معیاری طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

 

بلوچستان میں بنیادی صحت کے مراکز کی بحالی

 

اس منصوبے کے تحت بلوچستان بھر میں 164 بنیادی صحت مراکز کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جن میں کئی ایسے مراکز شامل ہیں جو برسوں سے غیر فعال تھے، ان مراکز میں ڈاکٹرز، نرسز، ویکسینیٹرز اور دیگر طبی عملہ تعینات کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بنیادی علاج، ماں اور بچے کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات اور ابتدائی طبی امداد کی سہولت ان کے اپنے علاقوں میں فراہم کی جا سکے۔

 

Related Posts
Related Posts

سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس پروگرام

 

بلوچستان حکومت سرکاری ملازمین کے لیے جدید ہیلتھ انشورنس نظام متعارف کرا رہی ہے تاکہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو بغیر اضافی مالی دباؤ کے علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے، اس نظام کے تحت منتخب اسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت فراہم ہوگی جبکہ پرانے پیچیدہ ادائیگی کے نظام کی جگہ شفاف اور جدید طریقہ کار متعارف کرایا جا رہا ہے۔

 

حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کی مضبوطی

 

اس منصوبے کا مقصد بلوچستان میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، اس کے تحت سینکڑوں نئے ویکسینیٹرز اور کمیونٹی ورکرز بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ موبائل ویکسینیشن گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں تاکہ دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

 

چائلڈ لائف ایمرجنسی سروسز کی توسیع

 

اس منصوبے کے تحت بچوں کے لیے خصوصی ہنگامی طبی سہولتوں کو بلوچستان کے مختلف اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے، یہ مراکز بچوں کو ایمرجنسی حالات میں فوری طبی امداد، سانس کی تکلیف، حادثات اور دیگر پیچیدہ صورتحال میں بروقت علاج فراہم کریں گے۔

 

ہیلتھ انفارمیشن اینڈ ڈیجیٹلائزیشن یونٹ

 

بلوچستان کے محکمہ صحت میں جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں شفافیت، نگرانی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے، اس نظام کے ذریعے ہزاروں ملازمین کا ریکارڈ ڈیجیٹل کیا گیا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری نظام نافذ کیا گیا ہے۔ صوبے بھر کے صحت مراکز سے بیماریوں، علاج اور دیگر طبی اعدادوشمار کی نگرانی بھی اب ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ممکن ہوگی۔

 

پیپلز ویلفیئر پروگرام

 

یہ بڑا عوامی فلاحی منصوبہ سرکاری اسپتالوں میں ضروری ادویات اور طبی سامان کی مسلسل فراہمی یقینی بنائے گا تاکہ مریضوں کو مفت علاج میں آسانی ہو، اس منصوبے میں حاملہ خواتین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور ریفرل نظام بھی شامل ہے، جس کے ذریعے پیچیدہ حمل کی بروقت نشاندہی اور فوری اسپتال منتقلی ممکن بنائی جائے گی۔

 

ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی علاج مراکز

 

بلوچستان کے 10 ضلعی اسپتالوں میں خطرناک اور پیچیدہ ٹی بی کے علاج کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں، پہلے ایسے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، مگر اب انہیں اپنے ضلع میں ہی تشخیص اور علاج کی سہولت مل سکے گی۔ اس منصوبے کے تحت جدید تشخیصی سہولتیں اور خصوصی تربیت یافتہ طبی عملہ فراہم کیا گیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.