اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ عوام کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ سینیٹ اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے ادارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں، جنہیں بہتر بنانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پچھلے پانچ سال میں 14 کروڑ روپے کی مالی بدعنوانی سامنے آئی، جس میں سے 7 کروڑ روپے کی ریکوری کی جا چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خسارے والے سرکاری اداروں کے ملازمین کو فوری طور پر بے روزگار نہیں کیا جائے گا بلکہ ریٹائرمنٹ اور پیکجز کی سہولت دی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے بہارہ کہو گرین انکلیو منصوبے کی تاخیر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو جلد شروع کیا جائے گا۔
آئی ٹی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیر مملکت شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کے مسائل جلد حل کرنے کا وعدہ کیا اور بتایا کہ آئی ٹی ایکسپورٹ میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب اے این پی رہنما ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے خطرات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو فوری طور پر مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر کامران مرتضی نے بلوچستان میں گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کیا، جس پر وزیر قانون نے یقین دہانی کرائی کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔