صحافیوں کو اسلام اباد سے بلوچستان بلا کر چند گھنٹوں کی بریفنگ دینے سے اگر مسئلہ حل ہوتا تو بلوچستان کب کا پر امن
ہوچکا ہوتا:
مسئلہ یہ نہیں کہ صحافیوں کو کیا بتایا گیا؟
سوال یہ ہے؟ کہ بلوچستان کے عوام سے یا عوام کے حقیقی سیاسی قیادت سے کیا پوچھا گیا؟
تصویر کا دوسرا رخ بھی جاننا چاہئیے،یک طرفہ ٹریفک نہیں چلے گی۔