پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو دل میں تکلیف، سینے میں درد اور سانس پھولنے کی شکایت پر بدھ کی شام پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد انہیں طبی نگرانی میں رکھ لیا۔ ان کے ہارٹ اٹیک میں مبتلا ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کے لیے خون کے ضروری ٹیسٹ بھی کر لیے گئے ہیں۔
سینئر صحافی جاوید اقبال کی ڈیلی پاکستان کیلئے خبر کے مطابق نورین نیازی اس وقت لاہور کی جیل میں قید تھیں، جہاں انہیں دل میں تکلیف محسوس ہوئی۔ طبیعت خراب ہونے پر پولیس کی سخت نگرانی میں بدھ کی شام 6 بج کر 51 منٹ پر انہیں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی میں لایا گیا۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے فوری طبی معائنہ کیا اور ضروری اقدامات کے بعد انہیں متعلقہ سرجیکل وارڈ میں منتقل کر دیا، جہاں ان کی حالت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق ہسپتال پہنچنے کے وقت نورین نیازی کی دل کی دھڑکن تیز، بلڈ پریشر معمول سے زیادہ تھا، جبکہ انہیں سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا بھی تھا۔ ان کی ای سی جی میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آنے کے بعد ڈاکٹروں نے ہارٹ اٹیک کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے خون کے ضروری ٹیسٹ کروائے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ای سی جی میں سامنے آنے والی تبدیلیاں دل کے دورے کی علامت ہو سکتی ہیں، تاہم صرف ای سی جی کی بنیاد پر ہارٹ اٹیک کی حتمی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ خون کے ٹیسٹ، خصوصاً دل کے پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کرنے والے ٹیسٹ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی رائے قائم کی جا سکے گی۔ فی الحال نورین نیازی کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور اعلیٰ حکام بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گئے۔ ہسپتال کے اس حصے میں جہاں انہیں رکھا گیا ہے، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس کی موجودگی کے باعث مریضہ تک رسائی محدود ہے۔
واضح رہے کہ نورین نیازی پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ اور ملک کے معروف تجزیہ نگار حفیظ اللہ نیازی کی اہلیہ ہیں۔ وہ اس وقت لاہور کی جیل میں قید ہیں۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں سخت پولیس نگرانی میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی طبی حالت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہارٹ اٹیک سے متعلق حتمی صورتِ حال خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ اور ڈاکٹروں کی تشخیص کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔