جعلی بھرتیوں اور سفارش کے نام پر جس طرح بلوچستان حکومت نے نوجوانوں کے خوابوں کے ساتھ کھیل کھیلا ہے، شاید ہی کسی معاشرے میں تعلیم یافتہ نسل کے ساتھ ایسا ظلم ہوا ہووہ نوجوان جو راتوں کی نیند قربان کر کے، ماں باپ کی امیدیں لے کر، کتابوں میں اپنا مستقبل تلاش کرتے رہے، آج وہی نوجوان دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں میرٹ کا نام لے کر کرپشن اور کمیشن سے پاک بلوچستان کا نام لے کر بار بار دھوکہ دیا گیا، لیکن حقیقت میں نوکریاں اُن لوگوں میں تقسیم کی گئیں جن کے پاس سفارش، طاقت یا پیسہ تھا۔ غریب اور محنتی نوجوان صرف اشتہار دیکھتے رہ گئے یہ صرف نوکریوں کی چوری نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کے اعتماد، خوابوں اور مستقبل کا قتل ہے۔ بلوچستان کے ہزاروں نوجوان آج ڈگریاں ہاتھ میں لیے بےروزگار بیٹھے ہیں، اور سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان کی محنت کا قصور کیا تھا؟
اگر یہی ظلم جاری رہا تو نوجوانوں کا نظام سے اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔بلوچستان کے 62 % آ بادی نوجوانوں پر مشتمل ہیں۔لیکن بدقسمتی سے یوتھ ڈیولپمنٹ انڈکس 2020 کے رپورٹ میں ہمارے نوجوانوں کو سب سے زیادہ اگنور کر رکھا گیا ہے۔ نوجوانوں کو ان کا حق دیا جائے
اقبال خان کاکڑ