جدہ قونصلیٹ کی پرانی بلڈنگ میں پاسپورٹ اور نادرا سروسز کے لیے لوگوں کی طویل قطاریں صبح سے لگنا شروع ہوجاتی تھیں۔ دور دراز سے آنے والے رات کو پہنچ کر قونصلیٹ کے باہر ڈیرے ڈال لیتے تاکہ صبح انہیں ٹوکن پہلے مل سکے۔
16 مارچ کو قونصلیٹ کی نئی عمارت میں منتقلی کے بعد کمیونٹی کو فراہم کی جانے والی سروسز میں کوالٹی چینج دیکھنے میں آیا۔ مختلف سفارتخانوں میں اپوائنٹمنٹ سسٹم کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینے کے بعد یکم اکتوبر سے نیا اپائنمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا۔
اس سسٹم کے ایک ماہ ہونے پر ملنے والے فیڈ بیک کی بنیاد پر یہ جائزہ لینے کی کوشش کی کہ نیا اپوائنٹمنٹ سسٹم کتنا موثر رہا۔ وقت کی بچت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا۔ رش کم ہوا یا اب بھی برقرار ہے۔ یہ سوالات قونصل جنرل کے سامنے رکھے۔
قونصل جنرل مصطفی ربانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’جب نئی بلڈنگ میں منتقل ہوئے تو ریلائز کیا ہمارے پاس سپیس اب زیادہ ہے اور لوگ باعزت طریقے سے بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم نے سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے ایک ماہ تک جائزہ لیا۔ ہم نے دیکھا کہ صبح کے وقت زیادہ رش ہوتا ہے۔ ایک وقت میں 700 سے 800 لوگ پہنچ جاتے تھے۔ لوگوں کو بعض کیسزمیں پانچ گھنٹے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔‘
مکمل تفصیل پہلے کمنٹ میں