نانا پاٹیکر کو دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ملتا تھا۔ ان کے پاس کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے

0

ایک وقت تھا جب نانا پاٹیکر کو دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ملتا تھا۔ ان کے پاس کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے۔ وہ صرف 13 برس کے تھے۔ نویں جماعت میں پڑھتے تھے اور گھر کے حالات ایسے ہوگئے تھے کہ انہیں سکول کے ساتھ کام بھی کرنا پڑتا تھا۔ دن میں پڑھائی، پھر کئی کلومیٹر پیدل چل کر فلموں کے پوسٹر پینٹ کرنا اور اس کے بدلے مہینے کے صرف 35 روپے ملنا۔۔۔ یہی تھی نانا پاٹیکر کی ابتدائی زندگی۔۔

 

وہ کہتے تھے کہ ان کے لیے بھوک اتنی بڑی حقیقت تھی کہ پھولوں کی خوشبو بھی محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ انہیں روٹی کی خوشبو اچھی لگتی تھی۔ ان کے بقول حالات نے انہیں بہت کم عمر میں بوڑھا کردیا تھا۔

 

نانا پاٹیکر کے والد کپڑے پر پینٹنگ کا کام کرتے تھے اور چھوٹا کاروبار بھی کرتے تھے۔ ان کے مطابق ان کے والد کو کسی قریبی شخص نے دھوکا دیا اور ان کی جائیداد سمیت بہت کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ خاندان متوسط طبقے سے نچلے طبقے میں چلا گیا اور 13 سال کی عمر میں نانا کو گھر چلانے کے لیے کام کرنا پڑا۔ یوں وہ دن میں کام کرتے، سکول جاتے اور پھر فلموں کے پوسٹر پینٹ کرتے تھے۔

 

شاید یہی وجہ تھی کہ بعد میں جب نانا پاٹیکر نے اداکاری شروع کی تو ان کی اداکاری پر حقیقت کا گمان ہوتا تھا۔ غصہ، بھوک، محرومی، خوف، بے بسی اور انسان کے اندر چھپی ہوئی شدت، وہ ان چیزوں کو اپنی زندگی سے سیکھ چکے تھے۔ ان کے والد بھی زیادہ دیر ان کے ساتھ نہیں رہے۔ نانا کے مطابق جب وہ صرف 28 برس کے تھے تو ان کے والد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے لیکن زندگی نے ابھی ان کے لیے ایک اور بڑا امتحان رکھ چھوڑا تھا۔

 

والد کی موت کے تقریباً ڈھائی سال بعد نانا نے اپنا پہلا بیٹا کھو دیا۔ ان کے بیٹے کو پیدائش ہی سے طبی مسائل کا سامنا تھا۔ نانا نے برسوں بعد اس واقعے پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہے تھے۔ نانا نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا ایسا سبق قرار دیا جس نے ان کی سوچ ہی بدل دی۔ ان کے مطابق اس کے بعد فلم چلے یا نہ چلے، عزت ملے یا نہ ملے، بہت سی چیزیں ان کے لیے پہلے جیسی اہم نہیں رہیں لیکن اس سب کے باوجود نانا پاٹیکر نے ہار نہیں مانی۔

 

سکول کے زمانے سے ہی انہیں تھیٹر کا شوق تھا۔ وہ سٹیج پر کام کرتے رہے اور یہی تھیٹر آگے چل کر ان کی اداکاری کی بنیاد بنا۔ 1978 میں فلم ‘گمان’ سے انہوں نے شروعات کی۔ ابتدائی دور میں انہیں وہ مقام نہیں ملا جو بعد میں ان کی شناخت بننے والا تھا۔

 

Related Posts

پھر 1986 میں ‘انکوش’ آئی اور نانا پاٹیکر کو وہ پہچان ملنے لگی جس کے بعد ان کا نام عام فلمی اداکاروں سے الگ ہوگیا۔ ان کی آواز، مکالمہ، بولنے کا انداز، آنکھوں کے تاثرات اور کردار میں غصے کی شدت ان کی شناخت بن گئے۔ انہوں نے 1991 میں ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ کی ہدایت کاری بھی کی اور اس میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ ٹیریٹوریل آرمی سے بھی وابستہ ہوئے اور انہیں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک بھی دیا گیا۔

 

پھر وہ وقت آیا جب ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ بھوک اور محرومی میں گزارا تھا، ہندوستانی سنیما کے بڑے اعزازات حاصل کرنے لگا۔ ‘کرانتی ویر’ کے لیے انہیں نیشنل فلم ایوارڈ برائے بہترین اداکار ملا۔ انہیں بعد میں پدما شری سمیت کئی بڑے اعزازات بھی ملے۔

 

وہ شخص جس نے 13 برس کی عمر میں فلموں کے پوسٹر پینٹ کرکے 35 روپے ماہانہ کمائے، جسے دن میں ایک وقت کا کھانا میسر ہوتا تھا، جس نے اپنے والد کو کم عمری میں کھویا، جس نے اپنا کم عمر بیٹا کھویا، وہی شخص آگے چل کر کروڑوں لوگوں کے لیے مثال بن گیا۔ وہ بھوک دیکھ چکے تھے۔ وہ ذلت دیکھ چکے تھے۔ وہ عزت پا چکے تھے۔ وہ محرومی دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے زندگی کے تقریباً تمام مراحل دیکھے اور پھر 8 اکتوبر 2026 کو ان کی زندگی کا سفر 75 برس کی عمر میں ختم ہوگیا۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایسی کہانی چھوڑ گئے جس میں ایک غریب لڑکے نے زندگی کے کئی سخت ترین مرحلے دیکھنے کے بعد خود کو اس مقام تک پہنچایا جہاں اس کا نام ہی اس کی شناخت بن گیا۔۔۔

 

‏ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گے

‏بہاریں ہم کو ڈھونڈیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گے

 

تدوین

aCi

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.